کامیڈی یا مزاح ادب کی قدیم ترین اور مقبول ترین اصناف میں سے ایک ہے۔اگرچہ عام تصور یہی ہے کہ مزاح کا مقصد صرف ہنسانا ہے لیکن اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔اعلیٰ درجے کی کامیڈی انسان کی کمزوریوں،معاشرتی تضادات، سیاسی بدعنوانیوں،اخلاقی گراوٹ، دکھاوا، منافقت، طبقاتی تفاوت اور انسانی نفسیات کو ہنسی کے پردے میں بے نقاب کرتی ہے۔
اس طرح کامیڈی یا مزاح محض تفریح نہیں بلکہ یہ اصلاح،تنقید اور فکری بیداری کا ایک بہت موئثر وسیلہ بھی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے نزدیک ٹریجیڈی انسان کو خوف اور رحم کے ذریعے کیتھارسز عطا کرتی ہے جب کہ مزاح انسان کو اپنی کمزوریوں پر مسکرانا اور ان سے سبق سکھاتا ہے۔طب کی زبان میں جب Blood,Phlegm,Black Bile n Yellow Bileمکمل تناسب میں ہوں تو بہترین مزاح جنم لیتا ہے۔
کامیڈی کا لفظ یونانی لفظ Komoidaسے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خوشیوں کا گیت یا Festivity جشن کا گیت۔یہ مانا جاتا ہے کہ قدیم یونان میں دیوتا Dionyseus کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات میں گیت،رقص اور مزاحیہ ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔یہی روایت ادبی صنف کامیڈی میں ڈھل گئی۔ اس رائے میں بہت وزن ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہو سکتا کیونکہ انسانیت کی ابتدا سے،جو لاکھوں سال پہلے ہوئی،انسان کی رگِ ظرافت ضرور مزاح میں ڈھلتی ہو گی اور وہ اپنے اظہار کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور ڈھونڈ نکالتی ہو گی لیکن انھوں نے قدیم یونانیوں کی طرح اس کو کوئی نام نہیں دیا ہوگا۔
مشہور یونانی اساتذہ میں سے ارسطو نے اپنی مایہ ناز کتابPoeticsمیں کامیڈی پر مکمل بحث تو نہیں کی لیکن اس کے مطابقComedy is an imitation of inferior people,not in the kind of vice but only in the ridiculous..یعنی کامیڈی انسان کی کمزوریوں کی نقل کرتی ہے جو مضحکہ خیز تو ہوں لیکن نقصان دہ ہرگز نہ ہوں۔کامیڈی کے بنیادی عناصر،مزاح،قاری یا ناظر کو خوشی اور مسرت کا احساس مہیا کرنا ،طنز،معاشرتی یا سیاسی خرابیوں پر تنقیدIrony,بات کا ایک مطلب ظاہر ہونا جب کہ اصل مفہوم کچھ دوسرا ہونا،مبالغہ،کسی کردار یا صورتحال کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا لفظی کھیل یعنیPunیاWitچست جملے،حاضر جوابی، ذہانت لیکن سب سے آخر میں ایک خوشگوار انجام سے اختتام ہونا۔
کامیڈی کی تاریخ۔جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے انسانی پیدائش کے ساتھ ہی ظرافت نے بھی جنم لے لیا ہوگا لیکن عمومی طور پر مانا جاتا ہے کہ کامیڈی کی ابتدا پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان سے ہوئی ۔اس دور کے بڑے مزاح نگاروں میں ارسٹوفین Aristophenes اور مینینڈر Menander ہیں۔یہ اپنے دور کی کامیڈی کی بخوبی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کے نمایاں کامیڈی ڈراموں میں Lysistrata اورThe Cloudsشامل ہیں۔ یونان کے بعد ساری یونانی ثقافت کو روم نے اپنا لیا ،حتیٰ کہ ساری یونانی دیو مالا کو صرف رومن نام دے کر رومن دیو مالابنا لیا گیا۔ رومن کامیڈی کی اساس بھی ویسی ہی ہے۔ رومن کامیڈی کے اہم مصنفین میں سے PlautusاورTerenceہیں۔ان کامیڈی ڈرامہ نگاروں نے گھریلو زندگی،محبت اور سماجی تعلقات کو اپنی تصنیفات کا موضوع بنایا۔
تحریکِ احیائے علوم یعنی Renisanceکا دور مغربی دنیا میں کامیڈی کی ترقی کا سنہری دور گردانا جاتا ہے۔اس دور کے سب سے بڑے مزاح نگار ولیم شیکسپیئر ہیں۔گو شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کو بہت فوقیت دی جاتی ہے اور انھیں ان کی ٹریجیڈیز کی نسبت سے اہمیت حاصل ہے لیکن بہترین کامیڈی لکھنا بھی ان کا ہی کام تھا۔شیکسپیئر نے تقریباً 16کامیڈیز لکھیں جیسے کہ As You Like it,Twelfth Night ,Much Ado About NothingاورA Mid Summer Night s Dreamمرچنٹ آف وینس کو بھی کامیڈی ہی شمار کیا جاتا ہے اگرچہ یہ بات وجہء نزاع ہے۔شیکسپیئر کی کامیڈیوں کی خصوصیات محبت،غلط شناخت،بھیس بدلنا،حاضر جوابی،اور ایک خوشگوار اختتام ہے۔
کسی بھی ادب کو بڑا بنانے کے لیے انتہائی دکھ کو مزاح کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ٹریجک کامیڈی بھی کامیڈی کی ایک قسم ہے جس میں المیے اور مزاح کا امتزاج ملتا ہے۔The WintersTale اور The Tempestایسی ہی کامیڈیز ہیں۔Situational Comedyکو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جیسے ایک شخص بہت زیادہ پی کر مدہوشی میں چل رہا ہے۔اس کے راستے میں ایک گڑھا آ جاتا ہے اور وہ گڑھے سے بچنے کے بجائے اس میں گر جاتا ہے۔کسی کا بھی گڑھے میں گرنا افسوس کی بات ہے لیکن اس حالت میں ہنسی آئے گی۔چارلس ڈکنز نے گریٹ ایکس پکٹیشن میں Pip اور Mr Jaggerکے کرداروں میں اعلیٰ ترین کامیڈی پیش کی ہے۔
اردوادب میں مزاح اور طنز کی روایت بہت پختہ اور شاندار روایت ہے۔غالب،پطرس بخاری،ابنِ انشا،شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،ضمیر جعفری ،مجتبیٰ حسین اور مشتاق احمد یوسفی نے بہت مزاحی ادب کو نکھار بخشا۔ مرزا غالب دہلی چھوڑنے سے بہت دل گرفتہ تھے لیکن اپنے اس گہرے دکھ کو یوں بیان کرتے ہیں،خاکِ دہلی سے جدا ہم کو کیا یکبارگی۔آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار۔اسی طرح اپنے لے پالک عزیز کی جواں سال موت کے دکھ کو یوں بیان کرتے ہیں،ناداں ہو جو کہتے ہوکہ کیوں جیتے ہو غالب،قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور۔اردو ادب میں ہی خوجی اور مرزا ظاہر دار بیگ کے کردار Caricatureکے بہترین نمونے ہیں۔مشتاق احمد یوسفی مزاح نگاری میں اپنی مثال آپ ہیں۔
جناب مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں پڑھ کر یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ سارے مزاح نگار بڑے با کمال ہیں لیکن مشتاق احمد یوسفی کی طرح کوئی نہیں لکھ سکتا۔یوسفی ایک ظرافت نگار کی حیثیت سے ایک نیا دبستان ہیں۔جناب شفیق الرحمٰن کا دجلہ ظرافت نگاری میں ایک سنگِ میل ہے۔اسی طرح کرنل محمد خان کی بزم آرائیاں وغیرہ بہت اعلیٰ درجے کی کامیڈیز ہیں۔پنجابی، پشتو، سرائیکی،سندھی و بلوچی ،براہوی،کشمیری،گلگتی تمام پاکستانی زبانوں میں اچھی کامیڈی لکھی گئی ہیں لیکن پنجابی میں جگت بازی نے اس عظیم زبان و ادب کے چہرے کو پھکڑ پن سے گہنا دیا ہے۔