چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں ہولناک آگ، 28 افراد ہلاک

فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکل اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس نے آگ کو مزید شدت دے دی


ویب ڈیسک July 10, 2026

بیجنگ: چین کے مشرقی صوبے فوجیان میں واقع جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت میں پھنس جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں واقع ہوئی ٹینگ شوز فیکٹری میں اچانک بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کے بعد ریسکیو اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور درجنوں فائر فائٹرز موقع پر پہنچ گئے۔

چین کی وزارتِ ایمرجنسی مینجمنٹ کے مطابق آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں کے لیے 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد بھی فیکٹری سے دھواں اٹھتا رہا جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کئی افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی کھڑکیوں اور چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے، جبکہ نچلی منزلوں میں آگ شدت سے بھڑک رہی تھی۔

جن جیانگ فائر بریگیڈ کے سربراہ ڈو ژین ژو نے بتایا کہ فیکٹری کی سیڑھیاں اور راستے جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر سامان سے بند تھے، جس کی وجہ سے امدادی اہلکاروں کو اوپری منزلوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکل اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس نے آگ کو مزید شدت دے دی۔

چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں، زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جائے اور حادثے کی وجوہات کا جلد از جلد تعین کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

صدر شی نے یہ بھی کہا کہ رواں سال چین میں صنعتی شعبے میں کئی بڑے حفاظتی حادثات پیش آ چکے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو ان واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے چاہییں۔

حکام کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔