کراچی: ڈکیتی واردات میں ڈاکٹر قتل، سندھ حکومت کی یقین دہانی پر لواحقین کا دھرنا ختم

لواحقین نے میئر کراچی سے مذاکرات کے بعد تین تلوار پر دھرنا ختم کردیا


ویب ڈیسک July 13, 2026

شہر قائد کے علاقے کلفٹن میں ڈکیتی کی واردات میں جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر آکاش کے اہل خانہ نے قاتلوں کی گرفتاری تک لاش کے ساتھ تین تلوار پر دھرنا دیا اور پھر مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کردیا، ملزمان نے ڈاکٹر کو قتل کیا اور 25 لاکھ روپے چھین کر لے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق مقتول ڈاکٹر آکاش بینک سے پچاس لاکھ روپے کی رقم نکلوائی تھی، ملزمان گاڑی سے پچیس لاکھ روپے کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ واردات کے وقت بینک کے گارڈ نے بھی ملزمان پر فائرنگ کی تاہم وہ فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق واقعہ فرئیر تھانے کی حدود میں ہوا، مقتول کی شناخت ڈاکٹر آکاش ولد سیٹھ سیرو مل کے نام سے ہوئی، ڈاکٹر آکاش بینک سے رقم لے کر آلٹو کار میں نکلے تھے کہ بینک کے قریب ہی واردات پیش آئی۔

مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہوئے جنہیں قریبی نجی اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے، مقتول کی لاش قانونی کارروائی کے لئے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کار جیسے ہی بینک کے سامنے رکی ایک ملزم بھاگتا ہوا آیا پہلے گارڈ پر فائرنگ کی، پھر کار کا گیٹ کھولا اور کار میں سے پیسوں سے بھرا بیگ اٹھایا۔

ملزم نے جلدی میں صرف ایک بیگ اٹھایا دوسرا بیگ گاڑی میں تھا، سیکیورٹی گارڈ نے ڈاکو پر فائرنگ جو مقتول ڈاکٹر اکاش کو جا لگی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے مفصل رپورٹ طلب کر لی۔

ترجمان انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ، سید سعد علی کے مطابق آئی جی سندھ نے واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرنے، قتل کی وجوہات کا تعین کرنے اور ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی جبکہ اہل خانہ نے ڈاکٹر آکاش کی لاش کو سرد خانے سے کلفٹن تین تلوار منتقل کیا اور دھرنا شروع کردیا۔

ڈ اکٹر آکاش کے چچا تہل رام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اندوہناک سانحے کے باوجود سندھ حکومت نے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا اور ہمیں اُن سے کوئی امید بھی نہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم قاتلوں کی گرفتاری تک لاش یہاں رکھ کر دھرنا جاری رکھیں گے۔ سیف سٹی میں اربوں روپے لگادیے تو قاتل کیوں گرفتار نہیں کیے جارہے۔

بعد ازاں میئر کراچی دھرنے کے مقام پر پہنچے اور لواحقین سے ملاقات کر کے قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ لواحقین نے میئر کراچی کے ساتھ مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئی جی سے ملاقات کے بعد اگلا لائحہ عمل دیں گے۔