ججز تقرر، جوڈیشل کمیشن نے امیدواروں کے انٹرویو شروع کردیے

جسٹس رضوی کمیٹی نے اسلام آباد، بلوچستان ہائیکورٹس کیلیے 27 امیدواروں کے انٹرویو کیے


حسنات ملک July 14, 2026

اسلام آباد:

جوڈیشل کمیشن نے پہلی بار اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے امیدواروں کے انٹرویو کا آغاز کردیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی نے پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججوں کے لیے 27 امیدواروں کے انٹرویو کیے۔

قبل ازیں کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 5ججوں کی تقرری کے لیے نامزدگیاں طلب کی تھیں جبکہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے 20 جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 7 نام تجویز کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے تمام امیدواروں کے انٹرویو کر کے سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ہر امیدوار کا انٹرویو تقریباً 15 سے 20 منٹ تک جاری رہا۔ کمیٹی کے ہر رکن نے امیدوار کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا جس کے بعد اکثریتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ 45 سال سے کم عمر امیدواروں کا نام جج کے طور پر منظور نہیں کیا جائے گا حالانکہ آئین میں 45 سال سے کم عمر وکیل کے ہائی کورٹ کا جج بننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ایک امیدوار نے بتایا کہ کمیٹی نے ان رپورٹڈ ججمنٹس کے بارے میں سوالات کیے جو ان کے پروفارما کے ساتھ منسلک تھے۔

دو امیدواروں نے بتایا کہ کمیٹی نے ان سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ اعلیٰ عدالت کا جج کیوں بننا چاہتے ہیں؟

ذرائع کے مطابق کمیٹی کی رائے تھی کہ بعض امیدوار جج کے عہدے کے لیے موزوں نہیں تھے تاہم دونوں چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے نامزد کیے گئے زیادہ تر امیدوار تقرری کے لیے اہل قرار دیے گئے۔

26ویں ترمیم کی منظوری سے قبل پارلیمانی کمیٹی امیدواروں کے انٹرویوز لیتی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھ کر امیدواروں کے انٹرویوز کر رہے ہیں تاہم یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ اس عمل کے باوجود جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں میں انتظامیہ کا کردار اب بھی غالب ہے اور بعض جج کمیشن کے اجلاسوں میں ہمیشہ حکومتی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

کمیٹی آج سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کرے گی۔