تین طاقتوں کی سیاسی شطرنج

اس سہ فریقی کشیدگی نے دنیا کے مادی وسائل اور معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے


اکرم ثاقب July 15, 2026

تاریخی عظمت کے بھولے بسرے احساسات اور غیر متزلزل جارحانہ عزائم میں جکڑے تین اہم دارالحکومت، واشنگٹن، تل ابیب اور تہران، انسانیت کی اجتماعی تقدیر کو عملًا یرغمال بناچکے ہیں۔

بظاہر تو یہ منظرنامہ سخت حریفوں کے درمیان ایک شدید اور نظریاتی جنگ دکھائی دیتا ہے، مگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض مفادات کا ایک باہمی کھیل ہے جو دنیا کے اخلاقی، قانونی اور معاشی ڈھانچے کو یکسر تباہ کر رہا ہے۔ طاقت کو قانون پر فوقیت دینے کی اس مشترکہ پالیسی نے کرۂ ارض کے وسائل، تجارتی شاہراہوں اور عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سیاست کا موجودہ نظام اب سفارتی ضوابط یا عالمی معاہدوں کا مرہونِ منت نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی قانون کی دانستہ پامالی ہی ریاستوں کی طاقت کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کی اس تکونی حکمتِ عملی کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے: تینوں ممالک بظاہر ایک دوسرے کے خلاف خونریز تصادم میں مصروف ہیں، لیکن حقیقت میں اسی کشیدگی کا سہارا لے کر اپنی غیر محدود طاقت کو وسعت دے رہے ہیں۔ اگرچہ زبانی کلامی ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملی میدان میں یہ ایک ایسا کاروبار ہے جہاں قومی خودمختاری، انسانی حقوق اور عالمی اداروں کی اہمیت کو بلا جھجھک قربان کر دیا جاتا ہے۔

روایتی سیاسی بیانیہ اس سارے معاملے کو مغربی اتحاد اور مزاحمتی بلاک کی جنگ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم، ایک باریک بین جیو پولیٹیکل تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بظاہر نظر آنے والے حریف کس طرح ایک دوسرے کے وجود کو قائم رکھنے اور اپنے اپنے خطے پر تسلط کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ امریکا اپنی زوال پذیر عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے مغربی ایشیا میں ایک سخت گیر حریف کی موجودگی کا محتاج ہے، تاکہ وہاں اپنی مستقل فوجی موجودگی، بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی کے نام پر تسلط، اور دفاعی سامان کی اربوں ڈالر کی تجارت کو جاری رکھ سکے۔

دوسری جانب، اسرائیل اپنے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تہران کے خطرے کو استعمال کرتا ہے۔ اس کی بدولت اسے واشنگٹن میں بلا تفریق سیاسی حمایت حاصل رہتی ہے، اور وہ خطے کے عوام کے حقِ خودارادیت جیسے سفارتی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ’پیشگی دفاع‘ کے نام پر فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے۔ یوں وہ ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے جہاں صرف فوجی طاقت ہی سرحدوں اور قوانین کا تعین کرتی ہے۔

تہران کی حکومت بھی اس دائمی کشیدگی سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔ ایران کی قیادت امریکی اور اسرائیلی خطرات کا سامنا پیش کرکے اپنے عوام میں قوم پرستی کو فروغ دیتی ہے، اندرونی سیاسی اختلاف کو سختی سے دباتی ہے، اور اپنے تمامتر قومی وسائل کو میزائل پروگراموں اور پراکسی نیٹ ورکس کی نذر کرنے کا جواز تراشتی ہے۔ اس طرح یہ تینوں فریق ایک ایسے لامتناہی سلسلے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر ایک اپنے اقتدار کی بقا کے لیے دوسرے کے وجود کا محتاج ہے۔ آزادی، دفاع اور انقلاب کے بلند بانگ دعوے صرف اپنے اقتدار اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہیں۔

سیاسی جوڑ توڑ کے علاوہ، اس سہ فریقی کشیدگی نے دنیا کے مادی وسائل اور معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنے اپنے جیو پولیٹیکل عزائم کی تسکین کے لیے یہ طاقتیں عالمی توانائی، مالیاتی نظام اور خوراک کی فراہمی کے ذرائع کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں کو جنگی زون میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتیں یکدم بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ان ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے غریب عوام پر پڑتے ہیں جن کا اس سیاسی کشمکش سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔

اس سارے کھیل کا سب سے بڑا نقصان خود بین الاقوامی قانون کے وقار کو پہنچا ہے۔ سرحدوں کے احترام، ماورائے عدالت کارروائیوں پر پابندی اور شہری ڈھانچے کے تحفظ جیسے اصول اب محض زبانی جمع خرچ بن کر رہ گئے ہیں۔ جب بڑی طاقتیں بغیر کسی عالمی منظوری کے یکطرفہ حملے کرتی ہیں یا دیگر ممالک کی حدود میں کارروائیاں کرتی ہیں، تو وہ ایک غلط روایت قائم کرتی ہیں۔ جواب میں جب علاقائی حریف بھی ابلاغی جنگ، بحری ناکہ بندی اور عام آبادیوں کے قریب جنگی کارروائیاں کرتے ہیں، تو قانون کی حکمرانی کا تصور مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

یہ صورتحال دنیا کے لیے ایک انتہائی خطرناک پیغام فراہم کرتی ہے: یعنی بین الاقوامی معاہدے اب بے معنی ہو چکے ہیں اور بقا صرف اسی کی ہے جو سب سے زیادہ تباہ کن صلاحیت رکھتا ہو۔ اس سوچ کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو چکی ہے، اور چھوٹی ریاستیں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ ان کی سلامتی سفارت کاری کے بجائے صرف و صرف ہارڈ پاور میں پوشیدہ ہے۔ جب تک عالمی برادری ان بااثر ریاستوں کو عالمی قوانین کا پابند بنانے کے لیے متحد نہیں ہوتی، انسانیت یوں ہی امن و امان اور معاشی ترقی کی نعمتوں سے محروم رہے گی۔ اور اسرائیلی نئے ورلڈ آرڈر پر کام جاری رہیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
اکرم ثاقب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔