لاہور:
پنجاب یونیورسٹی شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی سرکاری عمارت میں پرائیویٹ مرغیاں پالنے کا انکشاف ہوا جس پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
تحقیقاتی کمیٹی دو ہفتوں میں ذمہ داروں کے تعین اور سفارشات وائس چانسلر کو پیش کرے گی۔ کمیٹی تعین کرے گی کہ عمارت، لان وغیرہ پر مرغیاں کب، کتنی اور کس کی اجازت سے رکھی گئیں۔
کمیٹی دیکھے گی کہ کیا مرغیاں کسی تدریسی، تحقیقی یا ذاتی مقصد کے لیے رکھی گئیں اور مرغیاں رکھنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کی گئی یا نہیں۔ کمیٹی دیکھے گی کہ کیا یونیورسٹی ملازمین کو مرغیوں کی دیکھ بھال پر مامور کیا گیا۔
کمیٹی انکوائری کرے گی کہ کیا یونیورسٹی کی بجلی و دیگر وسائل مرغیاں پالنے کے لیے استعمال ہوئے۔ کمیٹی ذاتی مرغیاں پالنے پر یونیورسٹی کو مالی نقصان کا تخمینہ لگا کر ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
کمیٹی مرغیاں پالنے سے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے طلباء و طالبات کو درپیش پریشانی کو بھی دیکھے گی۔ تحقیقات میں یونیورسٹی قوانین، ضوابط، مالیاتی قواعد اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی ذمہ دار افراد کے خلاف مالی نقصان کی ریکوری سے متعلق سفارشات بھی پیش کرے گی۔ کمیٹی کو شواہد اکٹھے کرنے کے لئے خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے۔
قبل ازیں، اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران عابد نے ادارے کی چھت اور لان میں مرغیاں پال لیں، مرغیوں کے لیے سرکاری عمارت کی چھت پر ڈاکٹر کامران عابد نے ڈربے بنوا دیے۔
مرغیوں کو لان میں محفوظ رکھنے کے لیے 5 لاکھ روپے کا جنگلہ لگانے کا بھی انکشاف ہوا تھا، لان میں جنگلہ لگانے سے ادارے کے طلباء و طالبات کے لیے مین لائبریری جانے کا راستہ رک گیا۔
پرائیوٹ مرغیوں کی دیکھ بھال کے لیے شعبے کے سرکاری ملازمین ڈیوٹی پر مامور ہیں، گرمی میں مرغیوں کو چھت سے شعبہ الیکٹریکل کی عمارت کے ہال میں بھی شفٹ کر دیا گیا۔ مرغیوں کو سرکاری کولر اور اے سی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، کلاس روم میں مرغیوں کا دانہ رکھنے کا بھی انکشاف ہوا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر کامران عابد یونیورسٹی آف سرگودھا اور ساہیوال میں وائس چانسلر کے امیدوار ہیں۔
ترجمان جامعہ پنجاب کے مطابق شعبہ الیکٹریکل میں پرائیوٹ مرغیاں رکھنے کی اجازت نہیں دی، معاملے کو دیکھیں گے۔
ڈاکٹر کامران عابد کا موقف ہے کہ طالبات کو قدرتی ماحول فراہم کرنے کے لئے مرغیاں رکھیں، قدرتی ماحول کی فراہمی کے لیے مستقبل میں مزید پرندے رکھیں گے۔