سندھ کے جن نامور رہنماؤں نے ہاریوں کے حالات کارکو بہتر بنانے ، ون یونٹ کے خاتمے اور مظلوم قوموں کے لیے اپنی زندگی وقف کی ،ان میں ایک نمایاں نام قاضی فیض محمد کا ہے، قاضی فیض محمد نے اپنی سوانح عمری سندھی زبان میں تحریر کی تھی۔
اس کتاب کا اردو میں ترجمہ اردو کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کیا اور ان کی معاونت سجاد ظہیر سولنگی نے کی اور کتاب کی تریب و تدوین جاوید قاضی اور یاسر حنیف نے کی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ نے اپنی روایت کے مطابق ایک تاریخی دستاویز کو کتاب کی شکل میں منتقل کیا۔ قاضی فیض کے صاحبزادے جاوید قاضی نے اپنے والد کی اس تصنیف کے اردو ترجمے کا انتساب اپنی دادی مسلم خاتون اور اپنی والدہ پناہ خاتون کے نام تحریر کیا ہے۔
قاضی فیض محمد کے صاحبزادے جاوید قاضی ایڈووکیٹ نے انتہائی نفیس اردو میں کتاب کا پیش لفظ تحریر کیا ہے۔ وہ اس پیش لفظ میں تحریر کرتے ہیں کہ یہ ایک آوارہ مسافر کی نوری ہے جو صحیح وقت پر شائع کی جارہی ہے کہ جب صدی کا اختتام (جس میں شاہ سچل اور سامی تھے) انجام کو پہنچ رہا ہے اور نئے ہزاریہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ قاضی کی سندھڑی جس کے لیے اس نے زندگی قربان کردی اب بھی پسماندگی کی انتہا پر ہے۔ وہ اس گہرے گھاؤ کا امین ہے جو 1947ء میں تقسیم کی صورت میں لگا تھا، وہ بھی اس وقت نظریاتی فیشن کے دھوکے کا شکار ہوا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سوبھوگیان چندانی نے ٹیگور کو دیکھا تھا، سوبھو بابا کے یار تھے۔ بابا نے غلام علی کو دیکھا، گاندھی کو دیکھا، فیض احمد فیض ان کے دوست تھے اور آئی آئی قاضی باپ کی طرح تھے۔
سسی، سوہنی اور ماروی کو تھر کے ریگستان میں جا کر جان جوکھوں میں ڈال کر محسوس کیا۔ ڈاکٹر جعفر نے اپنے تعارف میں لکھا ہے کہ قاضی فیض محمد پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک بہت اہم نظریاتی شخصیت تھے جو بدقسمتی سے اب ہمارے سیاسی اور صحافتی حلقوں کے حاشیہ خیال سے بہت دور جاچکے ہیں لیکن ملک کی تاریخ کے ابتدائی عشروں کے سیاسی ارتقاء پر نظر ڈالیں تو وہ اپنے ہی جیسے کئی اور ایسے رہنماؤں کے ساتھ ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں جن لوگوں نے پاکستان کو ایک حقیقی جمہوری اور وفاقی مملکت بنانے کے لیے بھرپور سیاسی جدوجہد کی، سیاسی تحریکیں چلائیں اور قیدوبند کے مرحلے طے کیے، کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی سے دوچار رہے۔ پاکستان کی ان گم گشتہ شخصیات میں ایک قدر اور مشترک یہ بھی تھی کہ یہ ملک میں سماجی انصاف اور صوبائی خودمختاری کی علم بردار سیاست سے وابستہ تھے۔ ان سب رہنماؤں میں خان عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزئی، میر غوث بخش بزنجو، حیدر بخش جتوئی، جی ایم سید، میاں افتخار الدین اور کئی دیگر شامل تھے۔
قاضی فیض محمد نے یکم دسمبر1908ء کو اور بعض حوالوں سے 23 نومبر 1908ء کو آنکھ کھولی اور جب تصور کی آنکھ کھلی تو یہ برصغیر میں خلافت تحریک کے ہنگاموں کا زمانہ تھا۔ 1857ء کے واقعات کے بعد ہندوستان نے ایک دفعہ پھر انگڑائی لی تھی۔ ذرا پہلے جلیانوالہ باغ کا واقعہ بھی ہوچکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں باغیانہ افکار وار سیاسی حرکت پذیری سندھ کے ضلعوں تک اثرانداز ہورہی تھی۔ اسی ماحول میں قاضی فیض محمد کی ابتدائی تعلیم خیرپور میں ہوئی۔ 1929ء میں قاضی فیض محمد نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور علی گڑھ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ علی گڑھ سے وہ بمبئی یونیورسٹی پہنچے جہاں انھوں نے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ بعدازاں وہیں سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
انھوں نے1941ء میں باقاعدہ وکالت شروع کی اور خاکسار تحریک سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ بنگال میں قحط پڑا۔ لاکھوں انسان لقمہ اجل کا شکار ہوئے تو وہ رفاحی کاموں کے سلسلہ میں بنگال گئے اور قحط زدہ علاقوں میں متاثرین کی بحالی اور ان کی امداد کے لیے کام کرتے رہے۔ ادھر سندھ میں 1930ء میں سندھ ہاری کمیٹی قائم ہوگئی جو سندھ کی تاریخ کا ایک بہت اہم واقعہ ہے۔ آنے والے برسوں میں اس کمیٹی نے سندھ میں سماجی اور سیاسی تصور کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ کا سماجی معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار تھا۔ یہ طبقاتی تقسیم غیر معمولی نوعیت کی تھی۔
ایک طرف جاگیردار طبقہ تھا جس میں ایسے جاگیردار شامل تھے جن کی زمین لاکھوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھی۔ خوش قسمتی سے سندھ ہاری کمیٹی کو ایسے پڑھے لکھے لوگ بھی میسر آگئے جو صرف کھیتوں، کھلیانوں اور سڑکوں پر کیے جانے والے احتجاج پر تکیہ نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے درسگاہوں اور عدالتوں میں بھی رسائی حاصل کی اور ہاریوں کا مقدمہ ان اداروں میں لے کر پہنچے۔ حیدر بخش جتوئی اس سلسلے میں ایک سرکردہ نام ہیں جنہوں نے ہاریوں کے لیے جدوجہد تحریر اور تقریر کے ذریعہ کی۔ قاضی فیض محمد بھی اسی انداز میں ہاریوں کی آواز لے کر پہنچے ۔ انھوں نے عملی سیاست کا راستہ بھی اختیار کیا۔ سندھ ہاری کمیٹی میں وہ عملاً 1941ء میں شامل ہوگئے۔
معروف کمیونسٹ رہنما سوبھو گیان چندانی نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ قاضی صاحب کی دوستی سیاست کے شب و فراز سے ماورا تھی، وہ جہاں عالم دین اور حکیم مولوی معاز سے تعلق رکھتے تھے وہاں ہاریوں، کسانوں اور کمیونسٹوں سے بھی یارانہ رکھتے تھے، ہم گہرے دوست بھی تھے۔ شاید اس لیے بھی کہ میں بھگوڑا نہیں تھا۔ میری ساری صلاحیتیں سندھ کے لیے وقف تھیں۔ یہی خوبی قاضی صاحب کی تھی ، خدا انھیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔
قاضی فیض محمد نے اپنے دیباچہ میں تحریر کیا کہ میرا سفر 1975ء میں مکمل کیا۔ جب بھٹو صاحب ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں حکمرانی کے جاہ و جلال میں محو تھے اور میں پس دیوار زنداں عام انسانوں کے لیے سرگرداں تھا۔ قاضی فیض لکھتے ہیں کہ سندھیوں نے پاکستان کا جوش سے نعرہ لگایا تو ہندوؤں کو سندھ سے جانا پڑا۔ مسجد منزل گاہ کے تنازع کے وقت جو خون ریزی ہوئی وہ خون کس کے سر پر ہے؟ بھگت کشور رام جیسے فقیر منشی کا کس نے خون کرایا؟ سندھ کے ہندو بھی اپنی کارستانیوں کے لیے اتنے ہی جوابدہ ہیں ۔ انھوں نے مسلمانوں کو اچھوت سمجھا۔ ہندوستان میں جو اچھوتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہے ویسا ہی سلوک یہاں کے مسلمانوں سے کیا گیا۔ ان میں سب ہندو ایک جیسے نہیں تھے۔ ان میں بہت سے اچھے بھی تھے، وہ قرآن شریف کی تلاوت کرتے تھے، شاہ کے رسالہ کو گیتا کہتے تھے۔
(جاری ہے)