سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو بالی ووڈ کی حمایت، ہریتک روشن اور سوناکشی سنہا بھی بول پڑے

سونم وانگچک کی جاری بھوک ہڑتال کو بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی حمایت حاصل ہونے لگی ہے


ویب ڈیسک July 18, 2026

بھارت کے معروف ماہرِ تعلیم سماجی کارکن سونم وانگچک کی جاری بھوک ہڑتال کو اب بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہونے لگی ہے۔ اداکار ہریتک روشن اور اداکارہ سوناکشی سنہا نے وانگچک کے حق میں کھل کر آواز اٹھاتے ہوئے تعلیمی نظام میں شفافیت اور طلبا کے مستقبل سے متعلق سنگین خدشات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

59 سالہ سونم وانگچک گزشتہ کئی ہفتوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں، جہاں وہ صرف نمک اور پانی کے سہارے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور اس کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET) کے مبینہ پیپر لیک، تعلیمی اصلاحات اور بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہریتک روشن نے اداکارہ لیزا رے کی جانب سے شیئر کی گئی سونم وانگچک کی ایک ویڈیو کو اپنی سوشل میڈیا اسٹوری پر دوبارہ پوسٹ کیا، جس میں وانگچک مبینہ پیپر لیک اسکینڈل اور اس کے بعد متعدد طلبا کی خودکشی کے واقعات پر عوامی خاموشی پر سوال اٹھا رہے تھے۔ ہریتک نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات حقیقت کے قریب محسوس ہوتی ہے اور انہوں نے فلم ’سپر 30‘ میں استاد کا کردار ادا کرتے ہوئے طلبا کی ذہنی مشکلات کو قریب سے سمجھا تھا۔

ہریتک روشن کو ہندی فلم انڈسٹری کا پہلا بڑا اداکار قرار دیا جا رہا ہے جس نے کھل کر سونم وانگچک کی حمایت کی ہے۔ اس سے قبل زینت امان، سونی رازدان، سوارا بھاسکر، ابھے دیول، پرکاش راج اور اومی ویدیا سمیت کئی معروف شخصیات بھی وانگچک کے مؤقف کی حمایت کر چکی ہیں۔

دوسری جانب اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سونم وانگچک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ملک کے لیے بے شمار خدمات انجام دی ہیں اور آج وہ ان بچوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو موجودہ نظام کی خامیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتیں اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی طرح ملک دشمنی نہیں۔

سوناکشی سنہا نے کہا کہ اگر ایک شہری ہونے کے باوجود وہ ایسے معاملات پر خاموش رہیں تو یہ درست طرزِ عمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ہر شخص کو سچ کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ان کے اس بیان کے بعد ان کے والد، سینئر اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا نے بھی بیٹی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر فخر ہے کہ اس نے حق بات کہنے کا حوصلہ دکھایا۔

ادھر مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک کی صحت میں نمایاں بگاڑ آیا ہے۔ احتجاجی تنظیم کے مطابق ان کا تقریباً ساڑھے آٹھ کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے اور وہ مسلسل طبی نگرانی میں تھے۔ بعد ازاں 18 جولائی کی صبح دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات پر دہلی پولیس نے انہیں علاج کے لیے جنوبی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔