جنوبی لبنان میں فوج کی ایک گاڑی پر مبینہ حملے میں ایک اہلکار ہلاک جب کہ ایک افسر اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان کے شہر المنصوری کے ضلع صور میں پیش آیا جہاں فوجی گاڑی کے قریب موجود ایک مشتبہ شے اچانک پھٹ گئی۔
لبنانی فوج کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم فی الحال دھماکے کی نوعیت یا اس کے ذمہ دار عناصر کے بارے میں کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب لبنانی نشریاتی ادارے المنار کے مطابق دھماکا ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پہلے سے موجود غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
لبنانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں ایک فوجی موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ ایک افسر اور ایک سپاہی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک کی حالت نازک ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی مذاکرات امریکا کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہوئے اور سیزفائر پر اتفاق بھی کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود تاحال حالات کشیدہ ہیں اور اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں جاری جھڑپوں اور فضائی حملوں کے باعث سرحدی علاقوں میں بڑی مقدار میں غیر پھٹا ہوا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد موجود ہونے کی اطلاعات ہیں جو فوجیوں اور شہریوں دونوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی حملے میں لبنانی فوج بھی متعدد بار زد میں آئی جن میں کئی فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ جس پر لبنانی حکومت نے احتجاج بھی کیا تھا۔