وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے نظام میں شفافیت اور مسابقت آئے گی جبکہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ختم ہو گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد سارے نظام میں شفافیت لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ روزانہ مقرر ہوں گی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ہوتا یہ تھا کہ ہفتے کے بعد قیمت میں تبدلی اکٹھی آجاتی تھی اس وجہ سےعوام کو پیٹرول دینا بند کر دیا جاتا تھا اور ناجائز منافع خوری ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حکومتی نظام سے قیمت میں کمی یا بیشی فوری طور پر عوام کو منتقل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف میٹنگز کے دوران سب نے اس نظام کا خیر مقدم کیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ جس بھی شعبے میں حکومت نے اپنا پھیلاؤ محدود کیا اس میں مسابقت لے کر آئی، ہماری پیٹرولیم انڈسٹری کے بڑے پلیئرز کے ساتھ بیٹھک ہوئی ہے، وہ سب حکومتی پالیسی سے اتفاق کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس حکومتی نظام میں ان ہی کا فائدہ ہے، معاملے کا مستقل انتظام کیا جا رہا ہے اور میں خود پیٹرولیم انڈسٹری والوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کروں گا جو تحفظات ہوں گے ان کو ایڈریس کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایک بار میٹنگ ہونے کے بعد پیٹرول پمپس مالکان کے تحفظات نہیں رہیں گے، کسی بھی شعبے میں مسابقت لائیں تو پھر لاگت کم ہو جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اوگرا ریگولیٹر ہے اور اب وہ پرائسز طے کیا کرے گا، شفافیت اور مسابقت لانے سے لوگوں کو فائدہ ہی ہو گا نقصان نہیں ہو گا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تیل کے ذخائر کے حوالےسے ہم نے پلاننگ کی ہوئی ہے، وزیر اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے 4 اجلاس ہو چکے ہیں، 15 سے 20 دن میں ڈی ریگو لرائزیشن کی جانب لے جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ایک ادارہ بنایا ہے، جس کا مقصد سپلائی چین کو دیکھنا ہے، اس سے یہ پتا چل سکے گا کہ کہیں ذخیرہ اندوزی تو نہیں ہو رہی، ہم اس سارے نظام میں شفافیت لانا چاہتے ہیں، ایک مہینے کے اندر ہم ایک مکمل پیکج عوام کے سامنے لائیں گے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اوگرا بغیر سیاسی مداخلت کے چیزیں طے کرے گا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ کے وزیر ستمبر اکتوبر میں پاکستان آ رہے ہیں، ہم مقامی کمپنیوں کو تیل کی تلاش میں متحرک کرنے جا رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز یا کسی اور پر ہم منحصر نہ ہوں، مقامی طور پر ذرائع تلاش کرنے پر کام ہو رہا ہے، ہمارے پاس کافی کمرشل ذخائر موجود ہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلواسطہ ٹیکس کا غریب پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے بلواسطہ ٹیکسز کم ہونے چاہیں۔