سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ وائرل ویڈیو، جو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ سے منسلک کی جا رہی ہے، دراصل اسپین کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران میں 140 مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ڈالی گئی، جس میں آگ لگے ہوئے مقامات دکھائے گئے۔
اے ایف پی کی تحقیقات کے مطابق یہ دعویٰ غلط ہے۔ ویڈیو کا تعلق مشرق وسطیٰ سے نہیں بلکہ اسپین کے جنوبی صوبے المیریا میں لگنے والی والڈ فائر سے ہے۔
ویڈیو سب سے پہلے 9 جولائی 2026 کو ہسپانوی سیاستدان روڈریگو الونسو فرنانڈیز نے انسٹاگرام پر شیئر کی تھی جس میں لاس گالاردوس کے علاقے میں بھڑکنے والی آگ کو دکھایا گیا تھا، جو بعد میں قریبی قصبے انتاس تک پھیل گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس آگ کے باعث 50 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ اندلس کے علاقے میں لگنے والی اس آگ سے 13 افراد ہلاک اور 7 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔
اے ایف پی نے جغرافیائی شواہد، گوگل میپس اور دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کی کہ وائرل ویڈیو اسپین میں لگنے والی اسی جنگل کی آگ کی ہے جسے غلط طور پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔