9 مئی کمیشن بنانے، فوٹیجز سامنے لانے کے مطالبے پر مذاکرات رک گئے، پی ٹی آئی عہدے دارکا انکشاف

ہم نے کہا 9 مئی کی مکمل ویڈیوز جاری کی جائیں، کہا گیا پوچھ کر بتائیں گے پھر کوئی پیش رفت نہ ہوئی، عہدے دار


اسٹاف رپورٹر July 20, 2026
(فوٹو: فائل)

اسلام آباد:

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ مذاکرات عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر نہیں بلکہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنانے اور فوٹیجز سامنے لانے کے مطالبے پر تعطل کا شکار ہوئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کیوں رک گئے؟ اس کی وجہ سامنے آئی ہے۔

پی ٹی آئی کے اہم عہدے دار نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطالبات پر مذاکرات میں تعطل آیا، حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ اس نکتے پر نہیں پہنچی کہ بات چیت ہونی چاہیے۔

عہدے دار نے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات میں 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا گیا تھا، ہمارا مطالبہ تھا کہ 9 مئی کی مکمل سی سی ٹی وی ویڈیو جاری کی جائیں، ہمیں کہا گیا تھا کہ اس پر پوچھ کر بتایا جائے گا بعد میں کہا گیا پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

پارٹی ذرائع نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ پہلے مذاکراتی دور میں بھی شامل نہیں تھا بلکہ نومئی پر کمیشن اور فوٹیجز سامنے لانا اہم مطالبہ ہے۔