اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ہماری نسل کی سب سے نمایاں پہچان کیا ہے، تو میرا جواب ہوگا: ہم سوال کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ ہمیں ضدی، باغی یا زیادہ بولنے والی نسل سمجھتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں سوال کرنا کوئی برائی نہیں، بلکہ سیکھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ جس دن انسان سوال کرنا چھوڑ دے، شاید اسی دن وہ نئی چیزیں سیکھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
میں خود جنریشن زی سے تعلق رکھتی ہوں، اس لیے یہ بات صرف سنی سنائی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں محسوس کی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی بات کی وجہ پوچھ لیں تو فوراً یہ سننے کو ملتا ہے، ’اتنا مت سوچا کرو، بس جیسے بتایا جا رہا ہے ویسے کر لو۔‘ لیکن میرے لیے کسی بات کو سمجھے بغیر مان لینا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر کسی بات کی مضبوط بنیاد موجود ہو تو سوال سے گھبرانے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے۔
میں یہ بھی نہیں کہتی کہ ہماری نسل ہر معاملے میں درست ہے۔ ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی جلدی رائے قائم کر لیتے ہیں اور کبھی جذبات میں آ کر بات کر جاتے ہیں۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کسی بات کی بنیاد کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری نسل کو ’کیوں؟‘ پوچھنے کی عادت ہے۔ اور سچ پوچھیں تو بہت سے اختلافات اسی ایک لفظ سے شروع بھی ہوتے ہیں۔
آج ہمارے پاس وہ سہولت ہے جو شاید پہلے نہیں تھی۔ اگر کوئی خبر سنیں، کوئی دینی بات معلوم ہو یا کسی موضوع پر اختلاف ہو، تو چند منٹ میں مختلف ذرائع دیکھ سکتے ہیں۔ کتابیں، تحقیق، ویڈیوز اور مستند ویب سائٹس سب ہماری پہنچ میں ہیں۔ اسی لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ سنی سنائی بات پر فوراً یقین نہ کریں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک محفل میں ایک واقعہ بڑے یقین سے سنایا جا رہا تھا۔ سب لوگ خاموشی سے سن رہے تھے، لیکن میرے ذہن میں سوال آیا کہ کیا یہ بات واقعی مستند ہے؟ گھر آ کر میں نے اس کے بارے میں تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ وہ واقعہ اتنا مضبوط نہیں تھا جتنا بیان کیا جا رہا تھا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ تحقیق کرنا بے ادبی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے پہلے سوچتے اور معلومات حاصل کرتے ہیں، تو دین اور معاشرے جیسے اہم معاملات میں تحقیق کیوں نہ کریں؟
بدقسمتی سے ہر کوئی اس سوچ کو پسند نہیں کرتا۔ اگر کوئی نوجوان احترام سے بھی سوال کرے تو بعض اوقات جواب دلیل کی بجائے ناراضی کی صورت میں ملتا ہے۔ ’دو کتابیں پڑھ کر خود کو بڑا عالم سمجھنے لگے ہو‘ یا ’ہمارے بزرگ یہی کرتے آئے ہیں‘ جیسے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ ایسے موقع پر محسوس ہوتا ہے کہ شاید مسئلہ سوال نہیں بلکہ سوال کرنے والا ہے۔
میں اپنے بزرگوں کی عزت کرتی ہوں۔ ان کے تجربے کی کوئی جگہ نہیں لے سکتا۔ زندگی کے بہت سے سبق صرف وقت اور حالات سکھاتے ہیں۔ لیکن میرا یہ بھی ماننا ہے کہ تجربہ اور تحقیق اگر ساتھ چلیں تو فیصلہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ صرف اس لیے کہ کوئی بات پرانی ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہر حال میں درست بھی ہو۔ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، اور بعض اوقات معلومات بھی پہلے سے زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔
یہ بات صرف دین تک محدود نہیں۔ سوشل میڈیا پر روزانہ ایسی خبریں گردش کرتی ہیں جو بعد میں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔ کبھی کسی کی جعلی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے، کبھی کسی کے نام سے من گھڑت بیان پھیلا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم ہر چیز کو بغیر تحقیق آگے بھیجتے رہیں تو غلط معلومات خود ہمارے ہاتھوں پھیلتی ہیں۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آج کے دور میں تحقیق کرنا ایک عادت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔
ایک اور بات جو میں نے محسوس کی ہے، وہ یہ ہے کہ ہماری نسل صرف جواب سننا نہیں چاہتی بلکہ جواب کو سمجھنا بھی چاہتی ہے۔ اگر کوئی استاد، والدین یا بزرگ محبت سے کسی بات کی وجہ سمجھا دیں تو نوجوان اسے زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ لیکن جب صرف ’میں نے کہہ دیا ہے، اس لیے مان لو‘ والا رویہ اختیار کیا جائے تو فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج مختلف نسلوں کے درمیان ایک خاموش سی خلیج پیدا ہو گئی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ اس فاصلے کی ذمے داری صرف ایک طرف نہیں ڈالی جا سکتی۔ بعض نوجوان واقعی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں، جلدی نتیجہ نکال لیتے ہیں یا سوشل میڈیا کی آدھی ادھوری معلومات کو مکمل سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ بھی درست رویہ نہیں۔ تحقیق کا مطلب صرف گوگل پر ایک صفحہ پڑھ لینا نہیں، بلکہ مختلف ذرائع کا مطالعہ کرنا، مستند حوالوں کو دیکھنا اور اگر ضرورت ہو تو اپنی رائے بدلنے کا حوصلہ رکھنا بھی ہے۔
البتہ ہمیں بھی اپنا رویہ بہتر بنانا ہوگا۔ صرف سوال کرنا کافی نہیں، سوال کرنے کا طریقہ بھی اہم ہے۔ اگر لہجہ سخت ہوگا تو سامنے والا بات سننے کے بجائے ناراض ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر بڑے لوگ نوجوانوں کے ہر سوال کو بدتمیزی سمجھنے کے بجائے بات چیت کا موقع سمجھیں تو شاید بہت سی غلط فہمیاں خود ہی ختم ہو جائیں۔ مکالمہ ہمیشہ یک طرفہ نہیں ہوتا، دونوں طرف سے برداشت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔
میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہاں سوال کرنے کی آزادی بھی ہو اور جواب دلیل کے ساتھ دیے جائیں۔ اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک دوسرے سے سیکھنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ دنیا کی بڑی ایجادات، نئی دریافتیں اور سماجی تبدیلیاں بھی اسی وقت ممکن ہوئیں جب کسی نے روایتی سوچ سے ہٹ کر سوال کرنے کی ہمت کی۔
ہماری نسل کامل نہیں، لیکن ہم سمجھ کر چلنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی بات درست ہے تو اسے قبول کرنے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر اگر دل میں سوال پیدا ہو جائے تو اس کا جواب تلاش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آخرکار سچ کسی ایک نسل کی جاگیر نہیں، اسے ہر نسل نے مل کر تلاش کرنا ہوتا ہے۔
شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ جنریشن زی سوال کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم سوال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر سوال کو بے ادبی سمجھا جائے تو فاصلے بڑھتے جائیں گے، لیکن اگر اسے سیکھنے کی خواہش سمجھا جائے تو یہی سوال نئی سوچ، بہتر مکالمے اور مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ میرے نزدیک آنے والے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اختلاف سے گھبرانے کے بجائے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھیں، کیونکہ سچ کبھی سوالوں سے نہیں ڈرتا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔