اصلاحات کے نظام میں ناکامی کیوں؟

پاکستان کے حکومتی نظام کی بنیادی خرابی اصلاحات کے نظام کی درستگی کا نہ ہونا ہے۔ حکومتیں ایک مضبوط سطح کی اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی سکیں۔


سلمان عابد July 20, 2026
[email protected]

پاکستان کے حکومتی نظام کی بنیادی خرابی اصلاحات کے نظام کی درستگی کا نہ ہونا ہے۔ حکومتیں ایک مضبوط سطح کی اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی سکیں۔اگرچہ اصلاحات کے نام پر حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر کئی کمیشن بنے اور ان کمیشن پر اربوں روپے کی بڑی رقم بھی خرچ کی گئی مگر نتیجہ کسی بھی سطح پر مثبت نہیں نکل سکا۔

اصلاحات کا عمل محض کسی ایک شعبہ تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، معیشت،ادارہ جاتی بہتری، عدلیہ، بیوروکریسی،پولیس، انتخابات، پارلیمنٹ ،صنفی ترقی،اقلیتیں،گورننس کسی بھی سطح پر ہم اپنے معیارات کو عالمی درجہ بندی میں بہتری کے طور پر نہیں لاسکے ہیں۔ یہ جو عالمی سطح پر مختلف ادارے ہیں جو مختلف شعبوں میں مختلف ممالک کی اسکورنگ کو بنیاد پر درجہ بندی کرتے ہیں وہ ہماری ترقی کے تناظر میں کافی تلخ حقایق پیش کرتے ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے ہماری حکمرانی کے نظام میں ترجیحات ملک کے مفاد کے بالکل برعکس ہیں ۔

زیادہ تر حکمرانی کے نظام کی ترجیحات ذاتیات یا خاندان کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور وہ بنیادی طور پر اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے افراد یعنی خود کو بالادست کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ان کے بقول اگر ادارے بالادست ہونگے اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے گا تو وہ اور ان کے مفادات کمزور ہونگے۔اسی بنیاد پر ہمیں اپنے حکمرانی کے نظام میں درست اصلاحات کی ترجیحات میں بڑا واضح ٹکراؤ اور تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ ہمارا نظام طاقت ور طبقات کے مفادات کے تابع ہے اور ان ہی کو بنیاد بنا کر حکومتی نظام کو چلانے کی کوشش کرتا ہے ۔

آئی ایم ایف سمیت کئی عالمی اور ملکی تھنک ٹینک اور مختلف عالمی و داخلی ماہرین اپنی اپنی سطح پر بول اورلکھ کر حکومت کو تجاویزکو بھی پیش کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں درستگی کا عمل کیسے ممکن ہوسکے گا۔لیکن حکومت اور آزاد ماہرین کے درمیان مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔

مجھے ایک بڑے معاشی ماہر اور ایک امور خارجہ کے ماہر نے ذاتی ملاقات میں بتایا کہ جب انھوں نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر حکومت کو بہتری کے لیے مختلف تجاویز دیں تو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا ، اور ہمیں اندازہ ہوا کہ حکمران طبقات کو ہماری ضرورت نہیں۔آپ اصلاحات کی بنیاد پر چند بڑے شعبہ جات یعنی انتخابات اور سیاسی نظام،معیشت، عدلیہ، بیوروکریسی،پولیس ،تعلیم اور صحت کا ہی پوسٹ مارٹم کرلیں اور بیس کے قریب ان شعبہ جات کے مختلف ماہرین کا کمیشن بنا دیں اور وہ مختصر وقت میں ایک رپورٹ تیار کردے کہ پچھلے بیس برسوں میں ہم نے ماضی کے مقابلے میں ان شعبہ جات میں کتنی رقم کو خرچ کیا اور کتنی بہتری ماضی کے مقابلے میں آئی ہے۔

کمیشن کی یہ رپورٹ ظاہر کردے گی کہ حکومت نے اصلاحات کے نام پر جو سیاسی سطح پر کاروبار چلایا ہوا ہے اس کے کتنے مثبت اور منفی نتائج سامنے آئے ہیں ۔کیونکہ یہاں اصلاحات پر کام کرنے والے افراد اور اداروں سمیت حکومت کی کوئی جوابدہی کا سیاسی اور مالی نظام نہیں ہے اس لیے سارے حالات بگاڑ کا شکار ہیں۔ایک وجہ حکومت کی سطح پر ہمیں ترجیحات کے تناظر میں ان کی کمی کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ طبقہ طاقت ور طبقات کو مضبوط بناتا ہے۔دوسری وجہ یہ بھی کہ ہمارا سیاسی اور جمہوری نظام بہت کمزور ہے اور اس کے مقابلے میں غیر سیاسی قوتیں زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ نظام سیاسی محاذ آرائی اور سیاسی ٹکراؤ سمیت سیاسی دشمنی کی بنیاد پر چلتا ہے ۔سیاسی حکومتوں کے نظام میں سیاسی مداخلت اور سیاسی تسلسل کا نہ ہونا سمیت حکومتوں کو عملی پر بنانے،بگاڑنے اور توڑنے کے کھیل نے بھی اصلاحات کے ایجنڈے کو نقصان پہنچایا ہے ۔

جب ہم دو دو برس کے بعد حکومتوں یا وزیر اعظم کو گھر ہی بھیجیں گے تو نظام کی اصلاحات ممکن نہیں ہوتی۔یہ جو ایک بھاری بھرکم ہم نے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے قائم کیے ہوئے ہیں ان کو رکھنے کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نوازنا ہے اور اسی کھیل نے پورے ادارہ جاتی نظام کوایک طرف سیاسی مداخلت کی طرف دھکیل دیا ہے تو دوسری طرف یہ کھیل خزانے پر بوجھ بھی بن گیا ہے۔لیکن کوئی اس پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں اور ہم شاہانہ انداز میںاپنی اپنی سطح پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت دیگر نظام سے انجوائے کررہے ہیں۔ایسے میں لوگ اپنے حالات کی بہتری کے لیے کہاں جائیں یا ان کی کون سنے گا اس کا جواب بھی اس نظام کے پاس موجود نہیں۔

ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم جدید دنیا کے اصلاحاتی تجربات سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ انھوں نے کیسے اپنے اپنے ملکوں میں بہتری پیدا کی ہے۔کیونکہ ہم سیکھنا ہی نہیں چاہتے یا ہمیں سیکھنا ہی نہیں آتا یا کوئی ہمیں کچھ کرنے ہی نہیں دیتا ہم اسی کھیل میں پھنس کر رہ گئے ہیں، جو ہماری ناکامی کی وجہ ہوسکتی ہے۔ہم نے اصلاحات کے نام پر جو بڑے بڑے کمیشن بنائے اور ان کی جو رپورٹس اور تجاویز سامنے آئیں ان پر بھی ہماری حکومتوں نے کوئی منصفانہ اور شفافیت پر مبنی عملدرآمد کا نظام قائم نہیں کیا۔بیشتر کمیشن کی رپورٹس اور تجاویز ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی یا فائلوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔اس میں جہاں سیاسی حکومتیں ذمے دار ہیں وہیں اس عمل میں ہماری مضبوط بنیادوں پر موجود بیوروکریسی کا نظام بھی اصلاحات کے بڑے ایجنڈے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔

یہ سب طاقت ور افراد اپنی طاقت کو تحفظ دینے کے لیے اصلاحات کے کھیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان یہ باہمی تعلق یا گٹھ جوڑ خود اصلاحات کے ایجنڈے میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ہم عملی طور پر ادارہ جاتی سطح پر آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب جارہے ہیں اور اداروں کی اس کمزوری کے کھیل نے اصلاحات کے ایجنڈے کو اور زیادہ خراب کردیا ہے۔ بالخصوص ایسی اصلاحات جو اس ملک میں عام اور کمزور طبقات کے مفادات کو تحفظ دے سکے ۔کیونکہ جمہوری حکومتیں بنیادی طور پر عمرانی معاہدہ کی پابند ہوتی ہیں اور اس معاہدے کے تحت کمزور اور عام طبقات کے سیاسی ،قانونی اور معاشی مفادات کو تحفظ دینا اور ان کے حالات میں بہتری لانا ان کی بنیادی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن اس وقت المیہ یہ ہے کہ ہمارا ریاستی اور حکمرانی کا نظام عام آدمی کے مفادات کے تحت کام نہیں کررہا بلکہ مختلف سطحوں پر وہ عام آدمی کا استحصال کررہا ہے۔

عام آدمی اور حکمرانی کے نظام میں جو خلیج بڑھ رہی ہے اس پر حکمرانی کے نظام میں کوئی فکر مندی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ایسے لگتا ہے کہ حکمران طبقات کی ترقی کا ماڈل کچھ اور ہے جب کہ عام اور محروم طبقہ کی ترقی کا ماڈل حکمران طبقات سے عملا مختلف ہے۔عام آدمی عملی طورپر ملک میں اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے تناظر میں تبدیلی دیکھنا اور حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اسے حکمران طبقہ بڑے بڑے اشتہارات کی بنیاد پر ترقی کا ماڈل دکھا رہاہے اور حکمرانی کا نظام ذاتی تشہیر کے کھیل کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔

اصلاحات کی ایجنڈے کی تکمیل ایک مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام کا تقاضہ بھی کرتی ہے۔یہ الزام بجا کہ غیر سیاسی قوتوں نے جمہوریت کے نظام کے تسلسل کو قائم نہیں رہنے دیا ،لیکن خود ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کا داخلی سیاسی نظام اور جمہوری طرز عمل کیا ہے اس پر بھی ہر سطح پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔موروثی سیاست کی گدی پر بیٹھ کر جمہوریت کی سیاست اور بڑے نعرے لگانا آسان مگر یہ کہنا اس کے نتیجے میں جمہوریت مضبوط ہوسکے گی ممکن نہیں۔سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت پردباؤبڑھانے کی پالیسی نہ تو ہمیں سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوںکی طرف سے دیکھنے کو مل سکی اور نہ ہی اہل دانش طبقہ حکومت پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست پیدا کرسکا۔

سیاسی کارکن جب اپنی جماعت اور قیادت کے طرزعمل پر تنقید کرتا ہے تو اسے دیوار سے لگانے کی روایت عام ہے اور اہل دانش کا جو طبقہ حکمرانوں پر دباو ڈالتا ہے وہ بھی ان کی بیٹھک میں نظر نہیں آتا۔اس کے مقابلے میں ایک چاپلوسی طبقہ ہے جو ہر حکمران کے دور میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور ان کی ترجیحات بھی اصلاحات کم اور اپنا ذاتی مفاد زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے موجودہ نظام جسے ہم اب سیاسی اور جمہوری کم بلکہ ہائبرڈ اور کنٹرولڈ نظام زیادہ کہتے ہیں ایسے میں اصلاحات کا ایجنڈا اور زیادہ کمزور ہوجائے گا۔