امریکا ایران کشیدگی کے باوجود تیل سستا، جنگ بندی کی امید نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال اب بھی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے


ویب ڈیسک July 21, 2026

لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ فوجی حملوں کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز کمی دیکھنے میں آئی۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کار ممکنہ سفارتی پیش رفت اور جنگ بندی کی امید کے باعث محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 78 سینٹ یا تقریباً 0.9 فیصد کمی کے بعد 88.44 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 73 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 82.50 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ ستمبر میں فراہمی کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت بھی 41 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 82.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ وہ اطلاعات ہیں جن کے مطابق مختلف بین الاقوامی ثالث امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر کام کر رہے ہیں۔

مالیاتی ادارے آئی این جی کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر مجوزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو جاتا ہے تو جون میں طے پانے والی امریکا اور ایران کی مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یمن کی حوثی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کی دھمکی نے بھی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا رکھا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششوں سے مارکیٹ کو وقتی سہارا ملا ہے تاہم خلیجی خطے میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال اب بھی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز میں امریکا ایران مذاکرات، ممکنہ جنگ بندی اور خلیجی خطے کی سکیورٹی صورتحال تیل کی قیمتوں کے رخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔