جب ورلڈ کپ شروع ہوا تو اگر اس وقت کسی سے پوچھا جاتا کہ ٹرافی کون اٹھائے گا، تو زیادہ تر زبانوں پر چند ہی نام ہوتے تھے، فرانس، ارجنٹینا اور کچھ لوگ انگلینڈ کا بھی ذکر کرتے۔
یہ تینوں ٹیمیں نہ صرف مضبوط اسکواڈ رکھتی تھیں بلکہ ٹورنامنٹ کے دوران بھی شاندار کارکردگی دکھا رہی تھیں۔ خاص طور پر فرانس کا سفر ایک چیمپئن ٹیم جیسا تھا۔ گروپ مرحلے میں اس نے سینیگال کو 3-1، عراق کو 3-0 اور ناروے کو 4-1 سے شکست دے کر اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ناک آؤٹ مرحلے میں سویڈن کو 3-0، پیراگوئے کو 1-0 اور مراکش کو 2-0 سے ہرا کر سیمی فائنل تک پہنچ گیا۔
یعنی سیمی فائنل تک فرانس نے مسلسل چھ میچ جیتے، صرف دو گول کھائے اور سولہ گول کیے۔ ہر میچ میں وہ ایک مکمل، متوازن اور پُراعتماد ٹیم دکھائی دے رہا تھا۔ اسی لیے زیادہ تر ماہرین اور شائقین اسے ورلڈ کپ جیتنے کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دے رہے تھے۔
ادھر ارجنٹینا کا سفر بھی کسی حد تک متاثر کن تھا، لیکن فرانس جیسا یکطرفہ نہیں۔ گروپ مرحلے میں اس نے اپنے تمام میچ جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی، مگر ناک آؤٹ مرحلے میں اسے ہر راؤنڈ میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ راؤنڈ آف 32 میں کیپ وردے کو 3-2، راؤنڈ آف 16 میں مصر کو 3-2، کوارٹر فائنل میں سوئٹزرلینڈ کو 3-1 اور سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دے کر فائنل میں پہنچا۔ یعنی ارجنٹینا بھی مسلسل جیت رہا تھا، مگر اس کی ہر فتح یہ بتا رہی تھی کہ اسے ہر مرحلے پر سخت امتحان سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری طرف اسپین کا سفر ان دونوں سے مختلف تھا۔ گروپ کے پہلے ہی میچ میں اسے کیپ وردے نے 0-0 پر روک دیا۔ دوسرے میچ میں اگرچہ اس نے سعودی عرب کو 4-0 سے شکست دی، لیکن آخری گروپ میچ میں یوراگوئے کو صرف 1-0 سے ہرایا۔ ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریا کے خلاف 3-0 کی واضح کامیابی ضرور ملی، مگر اس کے بعد پرتگال کو 1-0 اور بیلجیم کو 2-1 سے شکست دی۔ نتائج اچھے تھے، لیکن ایسا کوئی مرحلہ نہیں آیا تھا کہ پوری دنیا یک زبان ہو کر کہتی ’’یہی ٹیم ورلڈ کپ جیتے گی۔‘‘
پھر آیا سیمی فائنل، سامنے تھی فرانس کی وہی ٹیم جسے تقریباً ہر شخص فیورٹ سمجھ رہا تھا۔ لیکن اسی دن اسپین نے پہلی بار اپنا وہ اصل روپ دکھایا جس کا شاید سب کو انتظار تھا۔ اس نے صرف فرانس کو 2-0 سے شکست نہیں دی بلکہ کھیل کے تقریباً ہر شعبے میں اسے مکمل طور پر آؤٹ کلاس کر دیا۔ پاسنگ، مڈفیلڈ پر مکمل کنٹرول، دفاع میں غیر معمولی نظم، اور حملوں میں اعتماد۔ اس روز فرانس جیسی مضبوط ٹیم بھی بے بس دکھائی دی۔
اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ اگر اسپین یہی معیار برقرار رکھتا ہے تو اب ٹرافی کوئی اور نہیں اٹھائے گا۔ اور پھر فائنل آیا۔ سامنے تھی ارجنٹینا جیسی تجربہ کار اور مضبوط ٹیم۔ لیکن اسپین نے ایک مرتبہ پھر نہایت منظم، پُراعتماد اور صبر آزما کھیل پیش کیا اور 1-0 سے کامیابی حاصل کرکے ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔
اس پورے ورلڈ کپ نے مجھے ایک سبق پھر یاد دلایا۔ فیورٹ ہونا ہمیشہ فائدہ نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ سب سے بڑا بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ فرانس نے سیمی فائنل تک شاید سب سے خوبصورت اور متاثر کن فٹبال کھیلی۔ ارجنٹینا نے بھی ہر مشکل مرحلہ عبور کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ مگر اسپین نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے ابتدا میں کوئی غیر معمولی تاثر قائم نہیں کیا، اس نے بڑے دعوے نہیں کیے۔ وہ خاموشی سے ہر مرحلہ عبور کرتا رہا، اپنی غلطیوں سے سیکھتا رہا، اپنی ٹیم کو بہتر بناتا رہا، اور جب فیصلہ کن وقت آیا تو اپنا بہترین کھیل پیش کر دیا۔ شاید یہی ایک عظیم ٹیم کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
چیمپئن وہ نہیں ہوتا جس کا نام پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ لیا جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب سے اہم لمحے میں اپنا بہترین کھیل پیش کرے۔ اسپین نے 2026 کے ورلڈ کپ میں یہی ثابت کیا۔
شاید یہی اصول صرف کھیل میں نہیں، زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی سے محنت کرنے والے لوگ ہی صحیح وقت آنے پر سب کو حیران کر دیتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔