’نیتن یاہو جنگی مجرم ہے، اسے گرفتار ہونا چاہیے‘، نیویارک میئر ظہران مامدانی کا اعلان

نیویارک سٹی حکومت کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عمل درآمد کا خودمختار اختیار موجود نہیں، بیان


ویب ڈیسک July 22, 2026

نیویارک شہر کے میئر ظہران مامدانی نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے پاس اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا قانونی اختیار موجود نہیں، تاہم انہوں نے امریکی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ظہران مامدانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس بات کا تفصیلی قانونی جائزہ لیا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آتے ہیں تو کیا شہر کی انتظامیہ انہیں گرفتار کر سکتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی جائزے کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ نیویارک سٹی حکومت کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر عمل درآمد کا خودمختار اختیار موجود نہیں۔

ممدانی نے کہا کہ ’بنیامین نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہیں اور فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ نیویارک شہر کے پاس گرفتاری کا اختیار نہیں، لیکن امریکی وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے اور اسے اس حوالے سے کارروائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک جس شخص کے خلاف بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت نے الزامات عائد کیے ہیں، اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے معقول شواہد موجود ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آئے تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ظہران مامدانی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر بین الاقوامی فوجداری عدالت کو غیر جانبدار ادارہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی ممکنہ امریکا آمد اور آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کے معاملے نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون، امریکی داخلی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔