عوامی احتجاج پر یوکرین کے آرمی چیف اولیکسینڈر سیرسکی عہدے سے فارغ

صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آرمی چیف اولیکسینڈر سیرسکی کو برطرف کرکے جنرل میخائلو ڈراپاٹی کو نیا سربراہ مقرر کر دیا


ویب ڈیسک July 22, 2026
ہماری افواج امریکی امداد کے بغیر بھی روس کے خلاف جنگ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، یوکرین

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اولیکسینڈر سیرسکی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ تجربہ کار جنرل میخائلو ڈراپاٹی کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز سے وزیر دفاع میخائلو فیڈوروف کی برطرفی کے خلاف ملک بھر میں مسلسل احتجاج جاری تھا۔

صدارتی دفتر کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق 60 سالہ جنرل اولیکسینڈر سیرسکی اب یوکرینی فوج کی قیادت نہیں کریں گے جبکہ 43 سالہ جنرل میخائلو ڈراپاٹی کو نئے چیف آف آرمی مقرر کیا گیا ہے جنھیں محاذِ جنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والا اور فوج میں مقبول کمانڈر سمجھا جاتا ہے۔

جنرل سیرسکی کی برطرفی سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ان کے اور سابق وزیر دفاع میخائلو فیڈوروف کے درمیان فوجی اصلاحات اور کمانڈ کے طریقہ کار پر اختلافات موجود تھے۔

وزیر دفاع کی برطرفی سے آرمی چیف کے ساتھ اختلافات مزید ابھر کر سامنے آئے تھے لیکن ابتدا میں ان خبروں کی تردید کی جاتی رہی تاہم بعد میں ان اختلافات کی تصدیق بھی ہوگئی۔

35 سالہ میخائلو فیڈوروف کو وزارت دفاع میں جدید اصلاحات، مسلح افواج کی تنظیم نو اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے باعث عوامی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل تھی۔

ان کی برطرفی کے بعد کیف سمیت کئی شہروں میں چھ روز تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جن میں مظاہرین نے جنرل سیرسکی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

نئے آرمی چیف میخائلو ڈراپاٹی کو ایک متحرک اور جدید جنگی حکمت عملی کا حامی افسر قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی تقرری سے یوکرینی فوج میں اصلاحات کے عمل کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔