فلم ’دھرندھر‘ سے شہرت پانے والی بالی ووڈ اداکارہ عائشہ خان کو تعلیمی اصلاحات کے حق میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی کوشش کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ اس کارروائی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عائشہ خان ممبئی میں طلبا کی جانب سے تعلیمی اصلاحات اور کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچی تھیں، جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار اداکارہ کو زبردستی پولیس وین میں بٹھا رہے ہیں۔
عائشہ خان نے اپنی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نہ کوئی نعرہ لگایا تھا اور نہ ہی کوئی تقریر کی تھی، اس کے باوجود انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
عائشہ خان نے انسٹاگرام اسٹوریز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں بتایا کہ وہ صرف احتجاج میں شریک افراد سے یکجہتی کے اظہار کے لیے وہاں موجود تھیں۔ ان کے مطابق جب ان کے بھائی اور دیگر دوستوں کو پولیس وین میں منتقل کیا گیا تو وہ اپنی دو خواتین دوستوں کے ساتھ سڑک کنارے کھڑی تھیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اسی دوران تقریباً 15 پولیس اہلکاروں نے انہیں اور ان کی دونوں ساتھیوں کو گھیر لیا اور پولیس وین میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعدد بار پوچھا کہ انہیں کس بنیاد پر حراست میں لیا جا رہا ہے، لیکن کسی اہلکار نے انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
عائشہ خان نے مزید بتایا کہ پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد وہاں موجود افسران نے ان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کیا، تاہم احتجاجی مقام پر تعینات اہلکاروں کے طرزِ عمل پر انہوں نے شدید اعتراض کیا۔ ان کے مطابق حراست میں لینے کے دوران انہیں اور ان کی دوستوں کو دھکے بھی دیے گئے، جس پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔