برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے ایک سزا یافتہ مجرم، جسے "گرومنگ گینگ" کا سرغنہ قرار دیا جارہا ہے، کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے بیان پر برطانوی وزیر داخلہ تنقید کی زر میں آگئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت ایسے قانونی راستے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے گرومنگ گینگ کے مجرم شبیر احمد کو پاکستان بھیجا جا سکے۔ اس تجویز پر برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ مجرم نے اپنے جرائم برطانیہ میں کیے اور طویل عرصہ وہیں رہا، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی برطانیہ کو ہی اٹھانی چاہیے نہ کہ اسے پاکستان بھیجنے کی کوشش کی جائے۔
بعض برطانوی پاکستانی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ایسے شخص کی ذمہ داری زبردستی نہیں دی جانی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی حکام پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ یہ برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے۔
یہ معاملہ اس وقت قانونی، سیاسی اور سفارتی سطح پر زیرِ بحث ہے جبکہ ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔