بجلی کمپنیوں کی جانب سے اوور بلنگ کا انکشاف، صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا

ملک میں کتنی اووربلنگ ہو رہی ہے اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، اووربلنگ ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہو رہی ہے، سینیٹرافنان اللہ


ضیغم نقوی July 23, 2026
(فوٹو: فائل)

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجلی کمپنیوں نے صارفین سے اوور بلنگ کے تحت اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جبکہ شکایت موصول نہ ہونے پر صارفین کو ان کی رقم بھی واپس نہیں کی جاتی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیر صدارت ہوا جہاں آڈٹ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ جو صارفین اووربلنگ ریفنڈ کلیم کے لیے اپلائی نہیں کرتے ان کو پیسے واپس نہیں ملتے، جن کی اوور بلنگ کی شکایت نہیں آتی ان کو کچھ نہیں ملتا۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ لوگوں نے اپنے زیور بیچ کر بل ادا کیے ہیں، یہ کون سا طریقہ ہے،90 کروڑ 46 لاکھ یونٹس پر 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو ریفنڈ دیے گئے، ایک صارف 3200 یونٹ کیسے استعمال کر سکتا ہے، جن کو ریفنڈ دیا گیا کیا ان میں انڈسٹریل صارفین بھی شامل تھے۔

لیسکو کے سی ای او نے کہا کہ کچھ ٹیوب ویل اور انڈسٹریل صارفین بھی شامل تھے، بجلی چوروں نے چوری کے لیے بڑے اسمارٹ طریقے اپنائے ہوئے ہیں، چند صارفین اپنے بیڈز میں ڈیوائسز لگا کر میٹرز کنٹرول کر رہے ہیں۔

حسین طارق نے کہا کہ نیوز میں آیا ہے کہ ایک دن میں صارفین پر 41 ہزار یونٹس ڈال دیے تھے۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آپ نے لوگوں کو چور ڈکلیئر کر دیا ہے، آڈٹ رپورٹ آپ کے ادارے کی پرفارمنس پر ہے، رپورٹ بجلی اداروں کی نااہلی اور غفلت سے متعلق ہے۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ مطلب کوئی شکایت نہ کرے تو اس پر جتنے مرضی یونٹس ڈال دیں، ایسے تو یہ کئی لوگوں پر 10،10 یونٹس زائد ڈال دیتے ہوں گے، ملک میں اصل میں کتنی اووربلنگ ہو رہی ہے اور اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، اووربلنگ ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہو رہی ہے۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر نے کہا کہ آپ نے بجلی صارفین کو ہی مشکل میں ڈال دیا ہے، صارف نے جو یونٹ استعمال ہی نہیں کیے ان کا بوجھ بھی ڈال دیا گیا۔

سیکریٹری توانائی نے کہا کہ کمپنیوں نے آڈٹ کے لیے ریکارڈ تاخیر سے جمع کروایا ہے، اس پیرے کو تب تک سیٹل نہ کریں، جب تک اسمارٹ میٹر نہیں لگتے تک تب معاملات کو ایسے ہی دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال 16 ملین اسمارٹ میٹر لگائیں گے اور یونٹس کے ضیاع سے بچیں گے، ہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب اور ترکیہ سے ملاقاتیں کی ہیں، شاید اسمارٹ میٹر کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر بھی جانا پڑے۔

سیکریٹری توانائی کا کہنا تھا کہ اب اگر کسی کا میٹر خراب ہوگا تو پرانا نہیں بلکہ اسمارٹ میٹر لگے گا۔

کمیٹی نے معاملہ ڈی اے سی میں حل کرکے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آگاہ کرنے کی ہدایت کردی۔