یورپی یونین نے گوگل پر ایک ارب ڈالر جرمانہ کردیا

گوگل نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حریف کمپنیوں کے لیے مسابقتی مواقع محدود کیے


ویب ڈیسک July 23, 2026

یورپی کمیشن نے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر سرچ انجن کے شعبے میں اپنی بالادست پوزیشن کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرنے پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کردیا ہے۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حریف کمپنیوں کے لیے مسابقتی مواقع محدود کیے۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے اپنے سرچ انجن کی اجارہ دارانہ حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مختلف سروسز کو نمایاں کیا، جبکہ دیگر کمپنیوں کی سروسز کو سرچ نتائج میں پیچھے رکھا۔

حکام کے مطابق گوگل نے اپنی شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر آن لائن سروسز کو زیادہ صارفین تک پہنچانے کے لیے غیر منصفانہ طریقہ اختیار کیا، جس سے مارکیٹ میں مقابلے کا توازن متاثر ہوا۔

یورپی کمیشن نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی ہی مصنوعات اور سروسز کو ترجیح نہیں دے سکتیں، بلکہ انہیں شفاف، منصفانہ اور غیر امتیازی اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔

کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے ڈویلپرز کو گوگل پلے اسٹور پر صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، کیونکہ اس سے گوگل کی فیس میں کمی واقع ہو سکتی تھی۔ یورپی حکام کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جن کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اجارہ داری قائم کرنے سے روکنا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق گوگل کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب گوگل نے یورپی کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے یورپی صارفین کو نقصان پہنچے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اس سے قبل 2018 میں اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم میں مبینہ اجارہ داری پر گوگل کو 4.7 ارب ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی پر 2.8 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گوگل کے خلاف تازہ کارروائی یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ امریکی حکومت پہلے ہی یورپی تجارتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور ممکنہ جوابی اقدامات کا عندیہ دے چکی ہے۔