شدید گرمی کا انوکھا حل، جاپان نے چند منٹ میں جسم ٹھنڈا کرنے والا ’ہیومن فریج‘ متعارف کرا دیا

تقریباً سات فٹ بلند اور 3.9 فٹ چوڑے اس یونٹ کی شکل کسی وینڈنگ مشین یا ریفریجریٹر سے مشابہ ہے


ویب ڈیسک July 24, 2026

موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے پیشِ نظر جاپان نے ایک ایسا جدید کولنگ سسٹم تیار کرلیا ہے، جو چند ہی منٹ میں انسان کے جسم کا درجۂ حرارت کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منفرد آلے کو ’ہیومن فریج‘ کا نام دیا گیا ہے۔

جاپانی کمپنی نے ایک صنعتی آلات بنانے والی کارپوریشن کے تعاون سے یہ جدید کولنگ یونٹ تیار کیا ہے، جس میں طاقتور ٹھنڈی ہوا کے ذریعے پورے جسم کو تیزی سے ٹھنڈک پہنچائی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد شدید گرمی میں ہیٹ ایگزاسشن (گرمی سے ہونے والی شدید جسمانی تھکن) کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

تقریباً سات فٹ بلند اور 3.9 فٹ چوڑے اس یونٹ کی شکل کسی وینڈنگ مشین یا ریفریجریٹر سے مشابہ ہے۔ اس کے اندر داخل ہونے والا شخص صرف 10 منٹ گزار کر اپنے جسم کے درجۂ حرارت میں نمایاں کمی محسوس کر سکتا ہے۔

اس جدید نظام میں اندرونی درجۂ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ کی ٹھنڈی ہوا براہِ راست سر، گردن، کندھوں اور کمر پر ڈالی جاتی ہے تاکہ جسم کو کم سے کم وقت میں مؤثر انداز میں ٹھنڈک فراہم کی جا سکے۔

صارف کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آلے میں خودکار حفاظتی نظام بھی نصب کیا گیا ہے، جو 20 منٹ مکمل ہونے کے بعد یونٹ کو خود بخود بند کر دیتا ہے تاکہ جسم ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا نہ ہو جائے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا اپنی نوعیت کا پہلا کولنگ سسٹم ہے، جو پورے جسم کو بیک وقت ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی ایئر کنڈیشنرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے جسمانی حرارت کم کرتا ہے۔

اس آلے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی کم توانائی کھپت ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے چلانے پر تقریباً 16 جاپانی ین فی گھنٹہ خرچ آتا ہے، تاہم ایک ہیومن فریج یونٹ کی قیمت تقریباً 15 لاکھ جاپانی ین، یعنی 10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد مقرر کی گئی ہے۔