راولپنڈی:
ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب بچی کے والد قیصر محمود کی مدعیت میں پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں انسانی اعضا کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 334 ت پ کے تحت درج کیاگیا ، جس میں اسپتال کی جانب سے نیلم صدیق کو نامزد کیا گیا ہے ۔
بچی کے والد نے مؤقف اختیار کیا کہ اٹک کا رہائشی ہوں اور کار پینٹر ہوں ۔ 23 دن کی بیٹی ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج ہے ، جس کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔ اسپتال گیا تو دیکھا بیٹی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹا ہوا تھا۔
قیصر محمود نے بتایا کہ انگوٹھے کے متعلق ڈاکٹر سے پوچھا تو بتایا گیا انگوٹھا نرس نیلم صدیق سے غلطی سے کٹ گیا ہے ۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے کہا کہ ہم انکوائری کریں گے لیکن کچھ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وجہ بتائی گئی۔