پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جہاں ناراض اراکین اور دیگر میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بانی چئیرمین عمران خان رہائی تحریک پر مشاورت کے لیے بلایا تھا اور پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخی ہوئی کیونکہ ناراض ارکان نے سخت تقریریں کیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقریر کے بعد ناراض ارکان کا سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ناراض ارکان کے سخت جملوں پر وزیراعلیٰ ناراض ہوگئے اور ناراض ارکان نے تحریک سے قبل کنونشن بلانے اور ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں سے حلف لینے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ ناراض ارکان کے سخت رویے کی وجہ سے اجلاس میں ماحول تلخ ہوگیا جبکہ ناراض ارکان اجلاس سے چلے گئے، ناراض ارکان کے تحفظات پر وزیراعلیٰ نے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رکن اسمبلی فضل الہٰی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 5 اگست کا جلسہ کچھ روز بعد کیا جائے پہلے ورکرز کنونشن بلایا جائے اور جس طرح سینیٹ الیکشن میں حلف لیا گیا اسی طرح تحریک کے لیے حلف لیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس بار تحریک زور پکڑے، جلسہ خیبرپختونخوا میں نہیں پنجاب میں ہونا چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ آئے۔
فضل الہٰی نے کہا کہ ہماری تجاویز کو نہیں سنا گیا، ہم نے بانی چیرمین کی رہائی کے لیے فیصلہ رکن تحریک چلانی ہے۔