وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں کی طرف مائل کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق قزاقستان نے پاکستانی بحری شعبے میں سرمایہ کاری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اس کے علاوہ قزاقستان کی گوادر ایئر پورٹ کو کارگو کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا جبکہ ازبکستان سے گوادر تک ریل، روڈ نیٹ ورکس کی ترقی، آف-ڈاک ٹرمینلز کی تعمیر پر اہم مشاورت بھی ہوئی ہے۔
ازبکستان نے بندرگاہوں کو رش، کسٹم کلیئرنس تاخیر سے بچانے کے لیے "آف_ڈاک" اسٹوریج کی تعمیر کا عندیہ دیا جبکہ ترکمانستان بھی گوادر سے برآمدات اور درآمدات بڑھانے، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر رضامند ہے۔
ذرائع کے مطابق گوادر کے لیے افغانستان کو بائی پاس، سی پیک روٹ، چائنا، کرغزستان، ازبکستان ریلوے کو استعمال کیا جائے گا جبکہ گوادر سے براستہ ایران، بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری بھی استعمال کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں پر کسٹمز اور ٹریکنگ سسٹم کو جدید بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔