دمشق: شام کے صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے جس میں کئی دیگر ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں خطے میں جامع امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں چاہتا اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور خطے میں استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
صدر احمد الشرع نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ شام مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اپنے قانونی حق سے دستبردار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گولان کی حیثیت شام کے لیے ایک بنیادی قومی مسئلہ ہے اور اس پر ملک کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔
انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام لبنان میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق دمشق اس وقت لبنانی حکام کے ساتھ ایسے اقدامات پر بات کر رہا ہے جن سے لبنان کو موجودہ بحران سے نکالنے میں مدد مل سکے۔
صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ لبنان میں جنگ اور امن سے متعلق تمام فیصلے صرف لبنانی ریاست کے اختیار میں ہوں اور ملک میں اسلحے پر بھی ریاست کی مکمل عملداری قائم ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں ایران اور امریکا یا اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے سنگین اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے، جن میں شام اور لبنان بھی شامل ہوں گے۔
اقتصادی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ صرف پابندیاں ختم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے بھی نکالنا ضروری ہے تاکہ ملک کی معیشت مکمل طور پر بحال ہو سکے۔
انہوں نے کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بھی بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے، تاہم حکومت اب بھی اس معاہدے کی کامیابی کے لیے پرعزم ہے۔
صدر احمد الشرع نے یہ بھی اعلان کیا کہ شام میں 2011 سے 2024 تک جاری رہنے والے تنازع کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کے معاملے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے گی اور متعلقہ ممالک کے ساتھ تعاون کرے گی۔