گرین لینڈ میں دیو ہیکل برفانی تودہ سمندر میں گرا، ویڈیو وائرل

بڑے آئس برگ اچانک سمندر میں گرنے سے پیدا ہونے والی لہریں قریبی کشتیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں


ویب ڈیسک July 27, 2026

گرین لینڈ کے مشہور ایلولیساٹ آئس فیورڈ (Ilulissat Icefjord) میں ایک دیوہیکل برفانی تودہ اچانک سمندر میں گرگیا، جس کے نتیجے میں پانی کی انتہائی بلند لہریں قریب موجود کشتی کی طرف بڑھنے لگیں۔ اس دل دہلا دینے والے منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں برفانی تودے کے ٹوٹنے، الٹنے اور پانی میں گرنے کا لمحہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جولائی میں گرین لینڈ کے علاقے اواناٹا (Avannaata) میں پیش آیا، جہاں موجود سیاحوں اور مقامی افراد نے اس حیرت انگیز منظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کر لیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برفانی تودہ سمندر میں گرنے کے فوراً بعد پانی کا ایک بڑا ریلا تیزی سے کشتی کی جانب بڑھتا ہے، جس پر سوار افراد فوری طور پر محفوظ فاصلے کی جانب ہٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

چند روز بعد اسی علاقے سے ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں ایک دیو ہیکل آئس برگ سمندر میں الٹتے ہوئے اپنا نچلا حصہ نمایاں کرتا ہے۔ برفانی تودے کے اس اچانک الٹنے سے پانی میں زبردست ارتعاش پیدا ہوا اور چاروں طرف دھند اور بلند لہریں چھا گئیں، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔

ایلولیساٹ آئس فیورڈ گرین لینڈ کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا جا چکا ہے۔ یہ مقام دنیا کے تیز ترین اور متحرک گلیشیئرز میں شمار ہونے والے سرمق کجالیک (Sermeq Kujalleq) سے جڑا ہوا ہے، جہاں ہر سال کروڑوں ٹن برف سمندر میں گرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر عالمی موسمیاتی تبدیلی اور برفانی نظام کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں برفانی تودوں کا ٹوٹنا یا الٹ جانا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم جب بہت بڑے آئس برگ اچانک سمندر میں گرتے ہیں تو ان سے پیدا ہونے والی طاقتور لہریں قریبی کشتیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے سیاحتی کشتیوں کو گلیشیئرز اور بڑے برفانی تودوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔