گرمیوں کی طویل تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ ہی بیشتر والدین کی سب سے بڑی فکر یہی ہوتی ہے کہ بچوں کو دوبارہ اسکول کی معمول کی زندگی کے لیے کیسے تیار کیا جائے۔
کئی ہفتوں تک آزادی کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد اچانک صبح جلدی اٹھنا، وقت پر تیار ہونا اور پڑھائی کی ذمے داریاں سنبھالنا بچوں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق اگر والدین چند آسان عادات اپنا لیں تو یہ تبدیلی بچوں کے لیے کافی حد تک آسان بنائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے بچوں کی نیند کا شیڈول درست کرنا ضروری ہے۔ اسکول کھلنے سے چند روز قبل ہی انہیں رات کو وقت پر سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ 6 سے 13 سال کی عمر کے بچوں کے لیے روزانہ 9 سے 11 گھنٹے جبکہ 13 سے 17 سال کے بچوں کے لیے 8 سے 10 گھنٹے کی نیند ضروری سمجھی جاتی ہے۔ مناسب نیند نہ صرف جسمانی توانائی بحال رکھتی ہے بلکہ بچوں کو ذہنی طور پر بھی تازہ دم رکھتی ہے۔
ماہرین والدین کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے بچوں سے موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز دور کر دی جائیں۔ اس دوران بچوں سے اگلے دن کے اسکول، اساتذہ، دوستوں اور نئی سرگرمیوں کے بارے میں مثبت انداز میں گفتگو کی جائے تاکہ وہ ذہنی طور پر اسکول واپسی کے لیے تیار ہو سکیں۔
اسکول کے دن کا آغاز ایک صحت بخش ناشتے سے کرنا بھی بے حد اہم ہے۔ غذائیت سے بھرپور ناشتہ بچوں کی توجہ، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ پھل، دودھ، انڈے، دلیہ، روٹی یا دیگر متوازن غذائیں بچوں کو دن بھر چاق و چوبند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ روزانہ بچوں سے اسکول میں ہونے والی سرگرمیوں، دوستوں، اسباق اور کھیلوں کے بارے میں بات کریں۔ اس طرح بچوں کا اعتماد بڑھتا ہے، وہ اپنی مشکلات کھل کر بیان کرتے ہیں اور اسکول سے ان کی دلچسپی بھی برقرار رہتی ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بچوں کو نئی روٹین اپنانے کے لیے والدین کو خود بھی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر گھر کا ماحول منظم ہوگا، سونے جاگنے اور کھانے کے اوقات متعین ہوں گے تو بچے بھی انہی عادات کو آسانی سے اپنا لیں گے، کیونکہ وہ زیادہ تر اپنے والدین اور گھر کے ماحول سے ہی سیکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسکول واپسی کو بچوں کے لیے دباؤ یا سزا کے بجائے ایک مثبت اور خوشگوار تجربہ بنایا جائے۔ حوصلہ افزائی، محبت اور مستقل مزاجی کے ساتھ انہیں نئی تعلیمی مصروفیات کے لیے تیار کیا جائے تو وہ نہ صرف جلد معمول پر آ جائیں گے بلکہ نئے تعلیمی سال کا آغاز بھی پُراعتماد انداز میں کر سکیں گے۔