لاہور:
تحصیل فیروز والا میں برساتی نالہ بھیر میں طغیانی اور حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی، دریائے راوی میں شاہدرہ اور اَپ اسٹریم کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، مسلسل مون سون بارشوں کے باعث نالہ بھیر سے نکلنے والا پانی درجنوں دیہات اور آبادیوں میں داخل ہو گیا، جہاں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے سیکڑوں خاندان محصور ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پانی کی سطح میں مزید دو سے تین فٹ اضافے کے بعد پٹھان کالونی سمیت متعدد آبادیوں کا مین لاہور جی ٹی روڈ سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا، جبکہ متاثرہ علاقوں سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک تین بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ اور اپ اسٹریم کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم مسلسل بارشوں کے باعث برساتی نالہ بھیر میں طغیانی اور حفاظتی بند ٹوٹنے سے رچنا ٹاؤن، رانا ٹاؤن، پٹھان کالونی، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نشیبی علاقے، مراد پور، جامکے چیمہ اور دیگر متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے اور مسلسل بارشوں کے باعث پانی کی سطح مزید بلند ہو رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے کے بعد پانی تیزی سے آبادیوں میں داخل ہوا، جس سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔ کئی خاندان خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکے ہیں، جبکہ بعض افراد گھروں اور سامان کی حفاظت کے لیے وہیں موجود ہیں۔

پٹھان کالونی کے رہائشی محمد ریاض نے بتایا کہ علاقے میں گزشتہ چار روز سے بجلی بند ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی فیملی رشتہ داروں کے گھر منتقل ہو چکی ہے، تاہم وہ سامان کی حفاظت کے لیے گھر میں موجود ہیں کیونکہ انہیں چوری کا خدشہ ہے۔
متاثرہ خاتون رشیداں بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کا بیشتر سامان پانی میں تباہ ہو گیا ہے۔ ان کے بقول زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہو چکی ہے اور انہیں سرکاری امداد نظر نہیں آ رہی۔
اسی علاقے کے رہائشی عبدالرحمن نے بتایا کہ رات کے وقت اچانک پانی گھروں میں داخل ہوا، جس کے باعث اہل خانہ کو جلدی میں محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا جبکہ گھریلو سامان کا بڑا حصہ پانی میں رہ گیا۔

رچنا ٹاؤن کے رہائشی محمد سلیم نے بتایا کہ کئی روز گزرنے کے باوجود پانی کی سطح کم نہیں ہو رہی، جس کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہیں اور لوگوں کو خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، الخدمت فاؤنڈیشن اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ رضاکار کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں پکا ہوا کھانا، خشک راشن، صاف پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے شعبہ خدمت خلق کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی ریلیف اور میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں مفت ادویات، ابتدائی طبی امداد، صاف پانی اور کھانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق اب تک تقریباً دو ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکوہ کیا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے ڈرون کے ذریعے سیلابی صورتحال کی نگرانی کے دعوے کیے گئے، تاہم مقامی آبادی کو بروقت خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر برساتی نالوں کی بروقت صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جاتا تو نقصانات میں نمایاں کمی آ سکتی تھی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اب تک کوئی اعلیٰ حکومتی یا انتظامی نمائندہ متاثرہ آبادیوں میں نہیں پہنچا، جبکہ امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر بوجھ فلاحی تنظیموں اور ریسکیو اداروں پر ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کے باعث مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا تو برساتی نالہ بھیر میں دوبارہ طغیانی آ سکتی ہے اور پہلے سے زیر آب علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔