لاہور میں فائرنگ کے واقعے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبداللہ طارق کو قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت عبداللہ طارق کے نام سے ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے عبداللہ طارق پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئے۔
واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول عبداللہ طاہر ریت کی ٹھیکداری کا کام کرتا تھا، گلبرگ میں یہ فزیو تھراپی کے لیے آیا تھا۔
پولیس نے کہا کہ موٹرسائیکل سواروں نے کلینک کے اندر آکر فائرنگ کر کے قتل کیا، مقتول کا چند ماہ پہلے اوکاڑہ میں لڑائی جھگڑ ا بھی ہوا تھا۔
پولیس نے کہا کہ مزید تفتیش جاری ہے، مقتول تحریک انصاف کی ٹکٹ پر اوکاڑہ سے ایم پی اے کا امیدوار تھا۔
لاہور میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کے قتل کے واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔
فیصل کامران نے بتایا کہ دو موٹر سائیکل سوار آئے جنہوں نے 4 گولیاں چلائیں، مقتول کا تعلق اوکاڑہ سے ہے، وہاں ان کی پرانی دشمنی ہے سات ماہ قبل بھی ان پر اوکاڑہ میں حملہ ہوا تھا، سی سی ٹی سی فوٹیج کے ذریعے قاتلوں کی نشاندہی ہوگئی ہے۔
فیصل کامران کے مطابق عبد اللہ طارق روٹین میڈیکل چیک کےلئے آئے تھے، ڈاکٹر کو بھی بازو میں گولی لگی جن کا علاج جاری ہے، حالت خطرے سے باہر ہے، مقتول عبداللہ طاہر ریت پھندی کا کاروبار کرتے تھے۔
فیصل کامران نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے شوٹرز کی کلوزسرکٹ فوٹیجز حاصل کی جارہی ہیں، چند ماہ قبل اوکاڑہ میں بھی عبداللہ طاہر پر قاتلانہ حملہ ہوا، دیرینہ دشمنی سمیت تمام پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔
مقتول عبداللہ طاہر کے کزن مسعود نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عبداللہ طاہر صبح اپنے روٹین چیک اپ کےلئے آئے تھے، وہ اکیلے کلینک کے اندر گئے، موٹر سائیکل سوار آئے اور کلینک کے اندر جاکر فائرنگ کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ عبداللہ کاروباری شخصیت تھے، ان کا ٹرا۔سپورٹ کا بزنس ہے، کسی سے دشمنی نہیں تھی مگر کچھ عرصہ قبل ایک واقعہ ہوا تھا جس میں صلح ہوگئی تھی، حقائق پولیس تحقیقات کے بعد کی سامنے آئیں گے۔
واردات میں ملوث شوٹروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں شوٹروں کو کلینک کے باہر موٹرسائیکل کھڑی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج میں ملزمان کو واردات سے قبل اور بعد میں بازار سے موٹرسائیکل پر گزرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں شوٹروں کو کلینک کے باہر موٹرسائیکل کھڑی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں ملزمان نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے موٹرسائیکل سے اترنے کے بعد بھی ہیلمٹ نہیں اتارے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے ہی کلینک کے اندر داخل ہوئے۔
اے ایس پی انویسٹی گیشن سرکل بریرہ کے مطابق سابقہ دشمنی اور مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے، جلد ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا جائے گا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔