کیا مسلسل موبائل استعمال کرنے سے انگوٹھے میں درد رہتا ہے؟ ماہرین نے اہم انتباہ جاری کردیا

ماہرین کے مطابق اس کیفیت کو عام طور پر ’ٹیکسٹرز تھمب‘ کہا جاتا ہے


ویب ڈیسک July 30, 2026

اسمارٹ فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال ہاتھوں اور خصوصاً انگوٹھے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کو موبائل پر مسلسل ٹائپنگ، چیٹنگ یا سوشل میڈیا اسکرول کرتے ہوئے انگوٹھے، کلائی یا ہاتھ میں درد، اکڑن، سن ہونے یا حرکت کے دوران کلک کی آواز محسوس ہوتی ہے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

ماہرین کے مطابق اس کیفیت کو عام طور پر ’ٹیکسٹرز تھمب‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح ان مختلف طبی مسائل کے لیے استعمال ہوتی ہے جو موبائل فون کے مسلسل استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں انگوٹھے کے جوڑ میں درد، انگلیوں کی سختی، جوڑ کے قریب سوجن یا انگوٹھا حرکت دیتے وقت تکلیف جیسی علامات شامل ہو سکتی ہیں۔

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بار بار ٹائپنگ اور طویل وقت تک اسکرین پر اسکرول کرنے کی عادت مستقبل میں ہاتھوں اور کلائی سے متعلق سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ پہلے موبائل فون کا استعمال صرف کالز اور پیغامات تک محدود تھا، لیکن اب لوگ گھنٹوں سوشل میڈیا دیکھنے، آن لائن ادائیگیاں کرنے، فلمیں اور ویب سیریز دیکھنے اور دیگر متعدد کاموں کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس سے ہاتھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔

یونیورسٹی آف کینٹکی ہیلتھ کیئر ہینڈ سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر مورین اوشاگنیسی کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون اب ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں استعمال کرنے کا ایسا طریقہ اپنایا جائے جو ہاتھوں اور جسم پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالے۔

ماہرین کے مطابق ایک ہی انداز میں کئی گھنٹے فون پکڑے رکھنے یا کلائی اور کہنی کو مسلسل ایک ہی پوزیشن میں رکھنے سے انگوٹھے اور کلائی کے نچلے حصے میں درد پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح فون کو صرف ایک ہاتھ سے استعمال کرنے کی عادت دیگر انگلیوں کو بھی تھکا دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے افراد کو اپنی اس تکلیف کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ چھٹیوں یا مصروفیات کے باعث کچھ دن موبائل کم استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس دوران ہاتھوں کا درد خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے ماہرین فون کے استعمال میں وقفے لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر موبائل سے مکمل طور پر دور رہنا ممکن نہ ہو تو فون پکڑنے کا انداز تبدیل کریں، کبھی دائیں اور کبھی بائیں ہاتھ سے ٹائپ کریں، صرف انگوٹھے پر انحصار کرنے کے بجائے دوسری انگلیوں کا بھی استعمال کریں اور مسلسل اسکرولنگ سے گریز کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اسمارٹ فونز میں موجود وائس ٹو ٹیکسٹ فیچر بھی ہاتھوں پر دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے لمبی ٹائپنگ کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح فون کا فونٹ بڑا کرنے سے اسے آنکھوں کے بہت قریب رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی، جبکہ فون کے پچھلے حصے پر لگائے جانے والے گرپ ہولڈر یا رنگ وزن کو پورے ہاتھ پر تقسیم کرتے ہیں اور ویڈیوز دیکھنے کے دوران اسٹینڈ کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔

اگر دن بھر موبائل استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں یا انگوٹھے میں درد محسوس ہو تو روزانہ چند منٹ کلائی اور انگلیوں کی ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔ ماہرین کے مطابق یہ سادہ عادت ہاتھوں کے پٹھوں کو آرام پہنچانے، خون کی روانی بہتر بنانے اور مستقبل میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔