انسانی معاشرے میں انصاف کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ عمارت کی بنیاد یا انسانی جسم میں روح۔ انصاف دراصل وہ ستون ہے جس پر معاشرے کا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں معاشرہ تباہی، ظلم اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔
اسلام ’’دینِ کامل‘‘ہے۔ دین اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ دینی اور دنیاوی تعلیمات کا مجموعہ ہے۔ معاشرے میں عدل، مساوات اور قانون کی بالادستی کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انصاف کسی فرد، گروہ یا طاقتور طبقے کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ قانون، شواہد اور غیر جانب دار فیصلے کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عدل کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی بنیاد قرار دیا ہے۔
انسان فطرتاً تعصب، جانب داری، غصہ، بغض، اور ذاتی مفاد کا شکار ہے۔ اگر انصاف کسی ایک یا چند افراد کے اختیار میں ہو تو اپنے خاندان یا قبیلے کو تحفظ دے گا اور غیروں پر ظلم ڈھائے گا۔ وہ اپنے دوست کو بری اور اپنے دشمن کو سزا دے گا۔ منافقین اسے اپنی چالاکی سے جوڑ توڑ کے لیے استعمال کریں گے۔ وہ جھوٹے گواہ پیش کریں گے، جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے، اور عدالت کو اپنی خواہشات کا آلہ کار بنا لیں گے۔ نتیجہ؟ مظلوم کو انصاف نہیں ملے گا، اور ظالم کو احساسِ برتری ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جہاں بھی انصاف کسی بادشاہ، سردار یا ایک فرد کے ہاتھ میں رہا، وہاں ڈکٹیٹرشپ اور ظلم و ستم پروان چڑھا۔ جدید دور میں کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان آزاد عدلیہ اور آئین ہے۔ انصاف کو افراد سے نکال کر منصفانہ نظام کے سپرد کرنا ہی اسے جھوٹ اور منافقت سے بچاسکتا ہے۔ اسلام میں انصاف اللہ کا حکم ہے اور اسے کسی فرد کی مرضی یا آرزو پر نہیں چھوڑا گیا۔
قرآن کا ارشاد ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہو، چاہے گواہی اپنے یا اپنے والدین اور رشتے داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔'‘‘ (سورہ النساء، 135)
رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’'انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک منبروں پر بیٹھیں گے۔‘‘ (مسلم)۔
مولانہ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا ’’تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں میں ہوئی ہیں۔‘‘
برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ’’گولہ باری سے میرا ملک نہیں تباہ ہوگا، اگر ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں، تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے، ہم سرخرو ہوں گے‘‘۔
یہاں انصاف ایک ذاتی رائے نہیں، بلکہ ایک منصوص قانون (شریعت) ہے، جسے اہل علم اور قاضی بغیر کسی جھجک کے نافذ کرتے ہیں۔ اگر معاشرے میں انصاف ناپید ہوجائے تو معاشرہ انتقام، ظلم، فساد اور لاقانونیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے فیصلوں، سزا اور حقوق کے تعین کےلیے ایک منظم قانونی اور عدالتی نظام کی بنیاد رکھی۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس کا آئین قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا عہد کرتا ہے۔ پاکستان کا عدالتی اور قانونی نظام انہی اصولوں کی عملی شکل ہے۔ پاکستان کا آئین عدلیہ کو مکمل قانونی حیثیت دیتا ہے۔ عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات سننے کی مجاز ہیں۔
عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کسی بھی ریاست کے بنیادی ستون ہیں، لیکن عدلیہ کے بغیر ریاست کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ 37-D کہتی ہے کہ ’’ریاست سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی‘۔ تمام اہلِ دانش جانتے ہیں کہ جہاں انصاف نہیں ہوگا وہاں ظلم ہوگا۔ چوتھے خلیفہ راشد حضرت علیؓ نے کہا ہے کہ ’’ظلم کے ساتھ کوئی حکومت اور ریاست قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔
آج وطن عزیز میں بسنے والے محض چند لاکھ لوگ ہی موجودہ عدالتوں اور مروجہ نظام عدل کو فراہمی انصاف کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ 22 کروڑ عوام کےلیے عدالتِ عظمیٰ و عالیہ، ماتحت عدالتیں، نظام عدل اور ضابطہ جاتی قوانین ایک پیچیدہ اور ایک خوفناک مشق کے علاوہ کچھ نہیں۔ اعلیٰ مراعات یافتہ اشرافیہ سیمنارز میں ہمیشہ انصاف اور سرعام ہونے بلکہ عدل فاروقی تک قائم کرنے کے دعویدار ہیں، جبکہ دانشور حضرات موجودہ نظام عدل کو سسکتا ہوا اور دم توڑتا ہوا لکھتے ہیں۔ پاکستان میں عدلیہ اور عوام کا تعلق پیچیدہ اور کئی جہتوں پر محیط ہے۔ ایک طرف عدلیہ عوام کو انصاف کی فراہمی کی آئینی ذمے دار ہے، تو دوسری طرف اسے عوامی اعتماد، سیاسی دباؤ، اور ساختی مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان کی عدالتوں میں تقریباً 23 لاکھ زیر التوا مقدمات ہیں، جن میں سے 83 فیصد (تقریباً 18 لاکھ) ضلعی عدلیہ میں ہیں۔ یہ طویل التوا عوام کے لیے انصاف تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنادیتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ججوں کو جو مراعات حاصل ہیں ان کے حوالے سے پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے، جبکہ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ (WJP ) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انصاف کی فراہمی میں ہماری عدلیہ 113 ممالک کی فہرست میں 106 ویں نمبر پر آتی ہے، جو حیرت اور افسوس کی بات ہے۔ عدالتی کارروائی اکثر طاقتور افراد کے لیے مخصوص اور غریبوں کے لیے تاخیر کا باعث سمجھی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام مسلسل کمزور ہو رہا ہے جس کی بڑی وجوہات سیاسی اثر و رسوخ اور معاشرے میں کرپشن کا بڑھنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عدلیہ اور عوام کا تعلق ایک اہم موڑ پر ہے۔ ایک طرف عدلیہ اپنی آزادی اور عوامی اعتماد کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، تو دوسری طرف مقدمات کے بیک لاگ اور سیاسی دباؤ جیسے مسائل بھی سنگین ہیں۔ 2025 کی آئینی ترامیم نے عدلیہ کی ساخت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں عوام اور عدلیہ کے تعلق کو مزید متعین کریں گے۔ کسی بھی مضبوط ریاست کی اصل طاقت اس کی فوج، معیشت یا وسائل سے پہلے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جب ہر شہری یقین رکھتا ہو کہ عدالت اسے انصاف دے گی تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرتا۔
حقیقی انصاف کے لیے تین شرائط ضروری ہیں۔
· خدا کا خوف (تاکہ وہ قاضی دباؤ یا سفارش پر انصاف نہ بدلے)۔
· مضبوط قانون (تاکہ جذبات کی کوئی گنجائش نہ رہے)۔
· چیک اینڈ بیلنس (تاکہ کوئی فرد اپنے آپ کو قانون سے بالا نہ سمجھے)۔
لہٰذا، انصاف معاشرے کا مقصد ہے، جبکہ عدلیہ وہ ذریعہ ہے جومقصد کوعملی شکل دیتی ہے۔ منصفانہ عدلیہ کے بغیر معاشرہ صرف چند مخصوص افراد کی جائیداد بن کر رہ جاتا ہے جبکہ حقیقی انصاف اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ معاشرہ سب کےلیے یکساں ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔