کیف: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے گزشتہ رات یوکرین پر کیے گئے میزائل حملوں میں ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے گزشتہ شب یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے بعض میزائل ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کی حتمی شناخت کی جا سکے۔
اس سے قبل ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اپنی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا تھا کہ روس نے حالیہ حملوں کے دوران شمالی کوریا کے فراہم کردہ میزائل استعمال کیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ روس پر شمالی کوریا کے ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی یوکرین اور مغربی ممالک روس پر شمالی کوریا سے میزائل اور دیگر عسکری سامان حاصل کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب روس نے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ شمالی کوریا بھی متعدد مواقع پر مغربی ممالک کے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالیہ دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق عالمی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جبکہ یوکرین جنگ کے سفارتی اور عسکری اثرات بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔