انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟

اس صورتِ حال کا غلط اندازہ لگانے کے بارے میں حکومت بے چاری کا بھی کوئی قصور نہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے گذشتہ دس برس میں کبھی منہ کی کھائی ہی نہیں


وسعت اللہ خان July 31, 2026

جنتر منتر نے نئی نسل کے ماتھے سے یہ داغ شائد دھو ڈالا ہے کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں ، اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں ، نہ پڑھتے لکھتے ہیں ، نہ دیکھتے سنتے ہیں ، سوشل میڈیا کے ان اسیروں کو کیا معلوم سیاسی جدوجہد کیا بلا ہوتی ہے ، نظریہ کس پرندے کا نام ہے اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی قیمت کیا ہے۔ایسے تمام مفروضوں کا جیسا کرارا جواب ان بچوں نے اپنی پینتیس روزہ تحریک میں دیا اس کے بعد ہم جیسے افلاطونی بڈھوں کو گویا چپی سی لگ گئی ، ساری دانش دھری کی دھری رہ گئی ہے۔

اس تحریک سے جو بنیادی سبق حاصل ہوا وہ شائد کسی بھی آمر کی سمجھ میں فوری طور پر نہ آئے اور سبق یہ ہے کہ جب تم کسی طبقے کی اجتماعی توہین کرتے ہو اور اس سے حقارت برتتے ہو تو ایک دن خود بھی ایسی ہی توہین اور حقارت برداشت کرنے کے لیے تیار رہو۔

ان بچوں کی کوئی مرکزی قیادت نہیں تھی بلکہ مستقبل کی بے یقینی ہی انھیں فیصلہ کن قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی۔راتوں رات انٹرنیٹ پر تشکیل پانے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی خودرو قیادت نے بس ایک علامتی پلیٹ فارم فراہم کر دیا۔ان میں سے کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ جس راہ پر چل نکلے ہیں وہ کہاں تلک لے جائے گی۔جس کے ہاتھ گتا آیا اس نے اس گتے پر من کی بات لکھ دی ، جس کے ذہن میں کوئی نیا نعرہ آیا اس نے کھڑے کھڑے وہیں لگا دیا۔کسی نے گا کر تو کسی نے تھالی بجا کر دل کی بھڑاس نکالی۔

ان ہزاروں بچوں میں سے کسی نے بھی نام نہاد قومی میڈیا کے کیمرے دیکھ کر وکٹری کا نشان نہیں بنایا بلکہ یہ سب دوغلے میڈیا سے انتہائی بیزار نظر آئے اور اپنا میڈیا خود بن گئے۔بظاہر وزیرِ تعلیم نشانہ تھے مگر سب جانتے تھے کہ یہ وزرا تو وہ روبوٹ ہیں جن کا ریموٹ صرف وزیرِ اعظم کے ہاتھ میں ہے۔لہذا جتنے بھی نعرے لگ رہے تھے یا پلے کارڈ اٹھ رہے تھے۔ نوے فیصد کا نشانہ مودی کی ذات تھی۔وہ مودی جس کی ناقابلِ تسخیر شخصیت کا سحر بہت محنت اور احتیاط سے پیسے ، میڈیا اور ٹرول بریگیڈز کے اشتراک سے پچھلے دس برس میں گھڑا گیا تھا۔یعنی مودی کبھی غلط نہیں ہو سکتا ، مودی مقبول ترین لیڈر تھا اور رہے گا ، مودی ہے تو ممکن ہے ، مودی ہی بھارت کو وشو گرو بنائے گا۔مودی سیاسی بونوں کے درمیان واحد قد آور ہے وغیرہ وغیرہ۔

مگر مشکل یہ ہے کہ آج کل کے مست مگن بچوں کو یہ سب معلوم نہیں۔انھیں تو بس یہ پتہ ہے کہ سسٹم گل سڑ رہا ہے اور وہ کچھ بھی کرلیں ان کی میرٹ پر ڈاکہ ڈال کر انھیں گرا کر آگے بڑھنے والوں کا راج مضبوط تر ہو رہا ہے اور یہ سب کرنے والے خود کو خدا سمجھ رہے ہیں۔چنانچہ ان غیر سنجیدہ بچوں نے مودی اینڈ کمپنی کو اپنے طنز اور غصے کی انی پر رکھ کے اچھال دیا۔

کوئی بھی ریاست و حکومت اکیسویں صدی کے بچوں کی نفسیات اب تک نہیں سمجھ پائی۔ لہذا لکیر کی فقیر ریاست نے حسبِ معمول ان بچوں کو تتر بتر کرنے ، دبانے اور خوفزدہ رکھنے کے لیے انہی فرسودہ نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جو ان بچوں کے باپ دادا پر کارگر ہو جاتے تھے۔

مگر یہ نسل صرف بزرگوں کی ہی نہیں سنتی بلکہ بدتمیزی کی حد تک منہ پھٹ بھی ہے ، بزرگی کے رعب کے آگے نظریں جھکانے کے بجائے منہ در منہ بحث پر اتر آتی ہے اور ضد کرتی ہے کہ جذباتی بلیک ملینگ کے بجائے انھیں عقلی دلائل سے قائل کیا جائے تو شائد وہ سمجھ جائیں۔مگر پھٹیچر دماغ کی بوڑھی ریاست کو یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آ سکتی لہذا نتیجہ مزید بے عزتی کی شکل میں نکلتا ہے۔

 شائد یہ سب کچھ اتنا جلدی اور اتنے بڑے پیمانے پر نہ ہوتا اگر بھارت کے چیف جسٹس ان بچوں کو کاکروچ سے تشبیہہ نہ دیتے۔اس توہین نے جیسے نئی نسل کے دل کو چیر کے رکھ دیا اور اس نسل نے بزرگانہ تکبر رد کرتے ہوئے بیک آواز اقبالِ جرم کیا کہ ہاں ہم کاکروچ ہیں اور تمہیں بتاتے ہیں کہ کاکروچ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ کچھ تو اتنے غصے میں تھے کہ والدین کو بھی نہیں بتایا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ جنتر منتر محض ہجوم نہیں تھا بلکہ ایسے ہم خیالوں کا مجمع تھا جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملنے کے باوجود ایک دوسرے کی نفسیات اور خواب خوب اچھے سے جانتا تھا۔یہی اس مجمع کی بنیادی قوت تھی۔

اس صورتِ حال کا غلط اندازہ لگانے کے بارے میں حکومت بے چاری کا بھی کوئی قصور نہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے گذشتہ دس برس میں کبھی منہ کی کھائی ہی نہیں۔ہندوتوا کی چھتری تلے اکثریت اور اقلیت کے درمیان سماجی و سیاسی دراڑ پیدا کر کے اپنا ہندو ووٹ بینک مستحکم کرنے میں بظاہر کامیابی حاصل کی۔الیکشن انجینیرنگ اور جوڑ توڑ میں مہارت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ہر ریاستی ادارے پر بظاہر بھگتوں کا تسلط ہو گیا۔

عدلیہ ایک آزاد ادارے سے سرکار کے طفیلی میں بدلتی چلی گئی۔دلی میں پچھلی ایک دہائی میں جتنے بھی دھرنے ہوئے بھلے وہ شاہین باغ کا دھرنا ہو یا کسانوں کی تحریک۔سب سے کامیابی سے نپٹ لیا گیا۔کامیابیوں کے نشے میں چور کسی ہاتھی کو بھلا کیسے معلوم ہو کہ برا وقت پڑنے پر اسے بے بس کرنے کے لیے ایک چیونٹی بھی کافی ہوتی ہے۔

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔ایسے ماحول میں روائیتی تشدد کی عادی انتظامیہ بھی بے چاری کیا کرے۔اس کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ان کاکروچوں سے نپٹنے کے لیے کیا نیا اسپرے استعمال کرے کہ جنہوں نے پورے سسٹم کو ہی مذاق بنا کے رکھ دیا۔

یہ مناظر اور تجربات ان تمام حکمرانوں کے لیے عقل کی نشانیاں لیے ہوئے ہیں جو خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم سے بہتر اس ملک و قوم کے لیے کوئی نہیں جانتا اور جو ہماری مخالفت کرے گا دراصل ریاست کی مخالفت کرے گا اور ریاست کی مخالفت کی تو ایک ہی سزا ہے یعنی…

 جینزیز نے کھل کے بتا دیا ہے کہ ریاست مستقل ہے اور حکومت آنی جانی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)