کالعدم ایکشن کمیٹی کا مہاجرین مقبوضہ کشمیر کی سیٹیں ختم کرنے کا مطالبہ، میر واعظ کا بھرپور ردعمل

پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، حریت رہنما


ویب ڈیسک August 02, 2026

کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پر لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے حقوق جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور یہ مساوی احترام اور  تحفظ کے مستحق ہیں، ہماری جدوجہد کی کامیابی جموں وکشمیر کے ہرعلاقے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایک طبقے کے حقوق کی خاطر دوسرے کے آئینی و جمہوری حقوق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہے۔

حریت رہنما نے زور دیا کہ اس معاملے سے متعلق تمام فریقین مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے بات چیت کریں اور ایک متوازن، مقبول اور قابلِ قبول حل تلاش کریں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

میر واعظ عمر فاروق کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔