روم: اٹلی نے مراکش سے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کے بعد اسپین کے ساتھ شینجن معاہدے کے تحت حاصل آزادانہ سفری سہولت کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اٹلی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس فیصلے کے بعد اسپین سے فضائی یا بحری راستے کے ذریعے اٹلی آنے والے تمام مسافروں کو داخلے کے وقت اپنی شناخت اور سفری دستاویزات، بشمول پاسپورٹ، پیش کرنا ہوں گے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسپین کے علاقے سیوٹا میں داخل ہوئے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہجوم کے دوران متعدد افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے، جس کے بعد یورپی ممالک میں سرحدی سکیورٹی اور امیگریشن پالیسی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اٹلی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد غیر قانونی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور ممکنہ سکیورٹی خدشات سے نمٹنا ہے۔
واضح رہے کہ شینجن معاہدہ یورپی ممالک کے درمیان ایک ایسا انتظام ہے جس کے تحت رکن ممالک کے شہری اور مسافر عام حالات میں بغیر سرحدی چیکنگ یا پاسپورٹ کنٹرول کے آزادانہ سفر کر سکتے ہیں۔ تاہم ہنگامی یا غیر معمولی حالات میں رکن ممالک کو عارضی طور پر سرحدی چیکنگ دوبارہ نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت یورپ میں غیر قانونی امیگریشن، سرحدی تحفظ اور شینجن نظام کے مستقبل سے متعلق جاری بحث کو مزید تیز کر سکتی ہے۔