میانمار کی معزول رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سو چی نے تقریباً 4 سال بعد پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی تنظیم کے نمائندوں سے ملاقات کی جس کی تصاویر منظرعام پر آگئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں 81 سالہ سو چی کو بظاہر صحت مند اور پُرسکون حالت میں دیکھا جا سکتا ہے جس سے ان کی خیریت سے متعلق طویل عرصے سے جاری خدشات میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔
میانمار کی فوجی حکومت نے پیر کو تصدیق کی کہ آنگ سان سو چی نے بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت میانمار میں آئی سی آر سی کے نمائندے آرنو ڈی بیک نے کی۔
یہ ملاقات اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ فروری 2024 میں اپنے بیٹے کو ایک خط بھیجنے کے بعد یہ پہلا مصدقہ موقع ہے جب سو چی کا حکومت سے باہر کسی فرد یا ادارے سے رابطہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ آنگ سان سو چی کو فروری 2021 میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب میانمار کی فوج نے ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔
بعد ازاں آنگ سان سوچی کو مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 33 سال قید کی سزا سنائی گئی جنھیں بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیا۔
بعد میں ان کی سزا میں کمی کی گئی اور حالیہ عرصے میں انہیں جیل سے منتقل کرکے نظر بندی یعنی ہاؤس اریسٹ میں رکھا گیا۔
اگرچہ فوجی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی کہ آنگ سان سو چی زندہ اور صحت مند ہیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں میں اس حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا تھا۔
سو چی کے بیٹے کم ایریس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی سطح پر اپنی والدہ کی خیریت جاننے کے لیے مہم چلائی تھی اور فوجی حکومت سے ان کی زندگی کا قابلِ اعتماد ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ملاقات کے بعد جاری ہونے والی تصاویر پر ردعمل دیتے ہوئے کم ایریس نے کہا کہ تصاویر حقیقی معلوم ہوتی ہیں اور ان کی والدہ اچھی صحت میں نظر آ رہی ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ فوجی حکومت ماضی میں متعدد بار غلط معلومات پھیلاتی رہی ہے اس لیے وہ ہر دعوے پر یقین نہیں کرتے تاہم اس مرتبہ انہیں لگتا ہے کہ جاری کی گئی معلومات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
ادھر بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر نے مختصر بیان میں کہا کہ یہ ملاقات تنظیم کے مقررہ اصولوں کے مطابق ہوئی اور وفد کو آنگ سان سو چی سے نجی طور پر بات چیت کرنے کا بھی موقع ملا۔
تاہم تنظیم نے نہ تو ان کی صحت کی تفصیلات جاری کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی۔
واضح رہے کہ میانمار میں اس وقت بھی فوجی سربراہ من آنگ ہلائنگ کی قیادت میں فوجی حکومت قائم ہے اگرچہ رواں سال انتخابات منعقد کیے گئے لیکن اقتدار بدستور فوج کے ہاتھ میں ہے۔