سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک دعویٰ تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ اے آئی بنانے والی کمپنیاں اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے لاکھوں کتابیں خرید کر انہیں اسکین کرنے کے بعد تباہ کر رہی ہیں، جن میں بعض نایاب اور کم دستیاب کتابیں بھی شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اس دعوے میں کچھ حقیقت موجود ہے، تاہم اس کے تمام حصوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
فیکٹ چیک ویب سائٹ ’اسنوپس‘ کے مطابق امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک کی اندرونی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ کمپنی نے بڑی تعداد میں فزیکل کتابیں خریدی تھیں اور انہیں مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے اسکین کرنے کے بعد تلف کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
یہ دستاویزات ایک کاپی رائٹ مقدمے کے سلسلے میں عدالت کے حکم پر منظر عام پر آئی تھیں۔
’پروجیکٹ پاناما‘
اپریل 2024 کی ایک اندرونی دستاویز میں پتا لگا کہ اینتھروپک نے اس منصوبے کو ’پروجیکٹ پاناما‘ کا نام دیا تھا۔ ان دستاویز میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا پایا گیا کہ اے آئی کو تیزی سے کتابوں کو اسکین کرنا ہے۔
کتابوں کو تیزی سے اسکین کرنے کے لیے انہیں عموماً ریڑھ کی ہڈی سے کاٹ کر صفحات الگ کرنا پڑتے ہیں، تاکہ انہیں اسکینر کے ذریعے تیزی سے ڈیجیٹل شکل میں منتقل کیا جا سکے۔
ایک اور اندرونی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2024 تک کمپنی لاکھوں کتابیں خرید چکی تھی، تاہم دستاویز میں درست تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔
کیا نایاب کتابیں بھی خریدی گئیں؟
دستاویزات میں ’کم عام‘ یا ’لیس کامن‘ کتابوں کو ترجیح دینے کا ذکر موجود ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کمپنی عام دستیاب کتابوں کے بجائے کم دستیاب کتابوں میں بھی دلچسپی رکھتی تھی۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ ’کم عام‘ سے مراد واقعی مارکیٹ میں نایاب کتابیں تھیں یا صرف نسبتاً کم مقبول اور کم دستیاب کتابیں۔ اسی وجہ سے فیکٹ چیک میں نایاب کتابوں کو باقاعدہ ہدف بنانے کے دعوے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
کیا تمام اے آئی کمپنیاں ایسا کر رہی ہیں؟
یہ دعویٰ بھی مکمل طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔
تحقیقات میں اینتھروپک کے منصوبے سے متعلق شواہد تو سامنے آئے ہیں، تاہم دیگر اے آئی کمپنیوں کی جانب سے اسی طرح لاکھوں کتابیں خرید کر اسکین کرنے اور تباہ کرنے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو ’زیادہ تر درست‘ قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ تمام اے آئی کمپنیاں نایاب کتابیں بڑے پیمانے پر خرید کر تباہ کر رہی ہیں، دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔