جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا علی کے مبینہ قتل کیس میں والد کی جانب سے دائر قبر کشائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو اختیار ہے کہ تفتیشی افسر کو نوٹس کیے بغیر بھی قبر کشائی کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج ہی درخواست دائر کی جائے اور آج ہی حکم بھی جاری کر دیا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تدفین کہاں ہوئی ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ تدفین فیروز آباد قبرستان، تھانہ فیروز آباد کی حدود میں ہوئی ہے۔
سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے قبر کشائی پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قبر کشائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ درخواست پر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔
بعد ازاں عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے میر رضا علی کی قبر کشائی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول میر رضا علی کے والد میر حسین نے کہا کہ رپورٹ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ تفتیش کس سمت جا رہی ہے، کبھی مالی معاملات کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کسی اور پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ ہم قتل کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے، مگر انویسٹی گیشن میں مالی معاملات اور سرمایہ کاری پر بات کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کہاں ہیں، وہ سامنے کیوں نہیں آ رہے؟
میر حسین نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچے کو پہلے ہی انتہائی تکلیف میں دیکھا، اب دوبارہ قبر کشائی بھی ان کے لیے باعثِ اذیت ہے، تاہم پولیس کو تحقیقات کرنی چاہئیں کہ شناخت کیوں مٹائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اب تک قتل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس ان سے کچھ اور بات کرتی ہے جبکہ باہر کچھ اور مؤقف اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی تو رپورٹ ملی، جبکہ انہیں صرف انصاف چاہیے۔
دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبر کشائی کی درخواست پولیس کو دینی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہ ہونے پر والدین نے خود درخواست دائر کی۔
وکیل نے کہا کہ اصل قاتلوں تک پہنچنے یا وجۂ موت کے تعین کے لیے قبر کشائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پولیس کیس کو نمٹانا چاہتی ہے، جبکہ پولیس سرجن آفس میں ڈاکٹر اسامہ کی رپورٹ کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد آج تک تفتیشی افسر نے مدعی کا بیان تک ریکارڈ نہیں کیا، افواہیں گردش کر رہی ہیں مگر شواہد جمع نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدعی کو تفتیش کے عمل سے مطمئن کریں۔