کراچی:
میر رضا کے والد میر حسن نے نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر اعتراض کرتے ہوئے قبر کشائی سے انکار کر دیا جس کے باعث قبر کشائی کی کارروائی مؤخر ہوگئی۔
مجسٹریٹ نے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ تفتیشی افسر لکھ کر دے گا تو مجسٹریٹ نئی کمیٹی یا پرانی کیمٹی کو بحال کرے گا، تفتیشی افسر نے بیان کی صورت میں مجسٹریٹ کو درخواست جمع کروا دی۔
دونوں بورڈز کے ممبران موقع موجود تھے۔ اہل خانہ اور وکیل کی جانب سے مجسٹریٹ کو نئے بورڈ کے خلاف درخواست جمع کروا گئی جس میں نئے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
قبر کشائی مؤخر ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میر حسن نے کہا کہ آپ خود دیکھیں میں پہلے دن سے کہہ رہا ہو کہ قتل ہے، آئی جی سندھ اتنے بڑے عہدے پر ہوکر ایسا بیان دے رہے ہیں کہہ کیس حل ہوگیا ہے اور جلد پریس کانفرنس کریں گے، یہ کیسا بیان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم خود عدالت گئے اور فیصلہ کیا کہ قبر کشائی کروانی ہے، رات کے اندھیرے میں نیا نوٹیفکیشن نکالا گیا، میں اپنے بیٹے کی قبر کشائی ہر صورت کرواؤں گا اور 10 دن بعد بھی میں قبر کشائی کروانی پڑی تو کروا لوں گا۔
والد میر حسن کا کہنا تھا کہ آئی او نے میجسٹریٹ کو لکھ کر دے دیا ہے، ہمیں پرانی ٹیم پر پورا اطمینان ہے، ہم پہلے سے بنائی گئی میڈیکل ٹیم کے ساتھ ہی قبر کشائی کروائیں گے۔
قبل ازیں، والد میر حسن کا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرانا میڈیکل بورڈ آئے گا تو اسے اجازت دیں گے، رات کے اندھیرے میں تبدیل ہونے والے میڈیکل بورڈ کو اجازت نہیں دے سکتے، رات گئے میڈیکل بورڈ تبدیل کر دیا گیا۔
میر رضا کے والد نے کہا کہ ہم اس 5 رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم نہیں کرتے، ہم 8 رکنی بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں جو عدالت نے دیا ہے۔ پولیس کبھی کچھ تو کبھی کچھ بتاتی ہے، پولیس کس کو بچانا جانتی ہے ہم سب جانتے ہیں، ابتدائی رپورٹ میں سنگین غلطیاں کی گئیں۔
والد میر حسن نے واضح کیا کہ رات کے اندھیرے میں جو کمیٹی بنائی گئی اس پر میں راضی نہیں ہوں، کسی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پہلی بنائی گئی کمیٹی کے ارکان آجاتے ہیں تو میں قبر کشائی کے لیے تیار ہوں۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد قبر کشائی آج دوبارہ کی جانی تھی، تاہم اہل خانہ کی جانب سے نئے بورڈ پر عدم اعتماد کے بعد کارروائی روک دی گئی۔ قبر کشائی کے موقع پر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
وکیل جبران ناصر کی گفتگو
میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ سنیے پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے قبر کشائی کروانی ہے اور آج دوبارہ دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا، تاہم قبر کشائی کا عمل مؤخر کر دیا گیا ہے اور مجسٹریٹ کو بھی ہم نے ساری تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جرنل ہیلتھ سندھ کا نوٹیفیکشن ہمیں کسی صورت قبول نہیں، کوئی انکو قانون پڑھائے کہ یہ غیر قانونی عمل ہے، قبر کشائی کا اختیار صرف پولیس سرجن کے پاس ہے جو اس دباؤ کے پیچھے تھے ان کو ایک کامیابی مل گئی، آج قبر کشائی کا عمل مؤخر ہونے سے کیس مزید بگڑے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ اب ہمیں کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں، ہمیں صرف پہلی کمیٹی پر بھروسہ ہے اور پہلی کمیٹی کے ڈاکٹرز بھی سندھ حکومت کے ہی ہیں، آئی جی سندھ کی تو بات ہی نہ کریں، انہوں نے تو کیس ہی حل کروا دیا ہے۔
وکیل نے کہا کہ سی سی ٹی فوٹیجز سامنے آرہی ہے کہ کچرے والا آرہا ہے، میر رضا نظر آ رہا ہے، وہ پیدل چلتے ہوئے نظر آرہا ہے لیکن میر رضا کی خود کشی کرتے ہوئے کوئی فوٹیج نہیں۔
جبران ناصر کا پولیس سرجن کو ہنگامی خط
وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کو ہنگامی خط لکھ کر میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے تشکیل دیے گئے نئے بورڈ پر اعتراض کر دیا۔ قانونی ورثا نے نئے میڈیکل بورڈ سے قبر کشائی کے لیے عدم رضامندی ظاہر کی ہے۔
جبران ناصر نے اصل عدالتی حکم کے مطابق تشکیل شدہ بورڈ برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ خط میں ڈی جی ہیلتھ حیدر آباد کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
نئے بورڈ کی تشکیل کو عدالتی حکم اور سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ سے متصادم قرار دیا گیا۔ خط میں واضح کیا گیا کہ غیر قانونی بورڈ سے قبر کشائی کی گئی تو قانونی کارروائی کریں گے۔
خط میں شواہد ضائع یا تبدیل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ وکیل کے مطابق اصل 8 رکنی بورڈ ہی قانون اور عدالتی حکم کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا۔
میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کیس میں نئی تحقیقاتی ٹیم کے نوٹیفکیشن پر تحفظات ہیں، رات کی تاریکی میں نئی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، 8 روز گزرنے کے باوجود تفتیشی افسر نے مدعی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ 8 دن تک گولی کا خول نہیں ملا، عدالتی حکم کے بعد فوری برآمدگی سوالیہ نشان ہے، پہلے اور نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان میں فرق واضح کیا جائے، پہلا نوٹیفکیشن واپس لیے بغیر نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
وکیل نے سوال اٹھایا کہ حیدرآباد سے جاری خط میں سیکریٹری صحت کے کس حکم کا حوالہ دیا گیا؟ پستول کے بغیر خول کی برآمدگی تفتیش میں کیا اہمیت رکھتی ہے؟
جبران ناصر نے کہا کہ ہمیں کوئی متبادل یا پلان سی قبول نہیں، ہم صرف پہلے سے قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں، قبر کشائی سے قبل آئی جی سندھ کا کیس حل ہونے کے قریب کا بیان سوالیہ نشان ہے، قتل میں ملوث افراد کے اثرورسوخ کے باعث راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔
نیا میڈیکل بورڈ
واضح رہے کہ گزشتہ شب میر رضا کیس میں قبر کشائی کے لیے نیا انکوائری بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، محکمہ صحت سندھ نے قبر کشائی کا نیا حکم نامہ جاری کیا تھا۔
نیا میڈیکل بورڈ 5 ارکان پر مشتمل ہے جبکہ اس سے پہلے میڈیکل بورڈ 8 ماہرین پر مشتمل تھا۔ پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید بدستور کنوینر مقرر ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین سربراہ شعبۂ فرانزک میڈیسن ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر کاظی اکبر پروفیسر شعبۂ فرانزک میڈیسن، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو بھی بورڈ میں شامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چانگ پروفیسر، شعبۂ پیتھالوجی، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کو بھی بورڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔ ڈاکٹر وسیم خان پولیس سرجن حیدرآباد بھی بورڈ کے رکن ہوں گے۔