ایران، امریکا اور عمان کے درمیان دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کا انتظار ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوز نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے ایران کی قومی سلامتی کونسل جلد اس معاہدے کی منظوری دے سکتی ہے۔ جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔
اگر معاہدے کی منظوری مل گئی تو اس کے اعلان میں امریکا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن بھی شریک ہو سکتے ہیں تاہم اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایک اور نیوز ایجنسی نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک ابتدائی فریم ورک طے پا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت کیا ہوگا؟
اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مشترکہ نگرانی ایران اور عمان کریں گے۔ جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا راہداری فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ایران کے کنٹرول میں داخلے کا ایک نیا بحری راستہ جبکہ عمان کے کنٹرول میں اخراج کا الگ راستہ قائم کیا جائے گا۔ معاہدہ ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے ہوگا۔
جس دوران امریکا اور ایران مستقل انتظامات، جنگ بندی اور دیگر تنازعات پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔
امریکا کی شرط کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ اسی صورت میں معاہدے کی حمایت کرے گا۔ جہازوں پر کوئی فیس عائد نہ ہو۔ بحری جہازوں کو گزرنے کے لیے کسی اضافی اجازت یا منظوری کی ضرورت نہ پڑے۔
بین الاقوامی بحری تجارت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ موجودہ فریم ورک میں امریکا کی تمام شرائط شامل کی گئی ہیں یا نہیں۔
خلیجی ممالک کی حمایت
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک نے بھی اس مجوزہ معاہدے کی حمایت کر دی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی اور خلیجی معیشت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں متبادل بل بھی زیر غور
دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے خبر دی ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی ایسے مسودۂ قانون کا جائزہ لے رہی ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر راہداری فیس عائد کی جا سکے گی۔ امریکا، اسرائیل اور دیگر دشمن ممالک کے بحری جہازوں کی گزرگاہ پر پابندی لگائی جاسکے گی۔
ایران کے اتحادیوں، خصوصاً حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں ملوث سمجھے جانے والے جہازوں اور کارگو پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔
فوجی جنگی جہازوں، جاسوسی میں ملوث یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے جہازوں کے داخلے اور اخراج پر بھی پابندی ہوگی۔
رکن پارلیمنٹ علیرضا سلیمی کے مطابق مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر ان کے کارگو کی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بل ابھی ماہرین کے جائزے کے مرحلے میں ہے اور اس کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔
ٹرمپ: معاہدہ جلد ہوسکتا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ ابھی طے نہیں پایا، تاہم اس پر پیش رفت ہو رہی ہے اور جلد اتفاق رائے ممکن ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی مرتبہ دعویٰ کیا کہ معاہدہ "آج، کل یا بہت جلد" ہو سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ہونے تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔
ایران کا ردعمل
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیانات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بڑے حملے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ مذاکرات ہونے والے ہیں۔ دھونس، وعدہ خلافی اور جعلی خبروں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔
ایران نے بدھ کو یہ بھی کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے تاہم عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
جو جنگ بندی کی بحالی اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔