پاکستانی پرانی فلمو ں میں اکثر ایک ایسا تھیم سانگ ہوتا تھا کہ جسے پوری فلم میں وقفے وقفے سے بیک گراؤنڈ میں چلایا جاتا تھا اور پھر اس گیت کی بازگشت سے فلم وہاں سے ایک نیا موڑ لے لیتی تھی اور سینما ہال شائقین کی تالیوں سے گونچ اٹھتا تھا۔
اس تھیم سانگ میں اتنی طاقت ہوتی تھی کہ فلم میں کسی کو اپنا پیار یاد دلانا ہوتا، کسی کو اس کا ماضی یاد دلا کر اس کی یاداشت واپس لانا ہوتی، کسی کے بہن بھائی کی پہچان کرانا ہوتی یا پھر ممتا کا جذبہ جگانا ہوتا، وہی ایک گیت ہر جگہ کام آتا، بس جیسے ہی وہ گیت چلتا فلم کی کہانی میں جتنے مسئلے مسائل ہوتے حل ہوتے جاتے اور بالآخر فلم کے اچھے انجام پر شائقین ہنسی خوشی گھروں کو لوٹ جاتے۔
ہمارے ملک میں کچھ دنوں سے نئے صوبوں کے قیام کی جو بازگشت سنائی دے رہی ہے جس کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ کی ایک بات ’سسٹم بیٹھ گیا ہے‘ سے ہوا اور پھر اقتدار کے ایوانوں، صحافت کے قلمدانوں اور عوام کے دماغ کے خانوں میں ایک تھرتھلی مچ گئی ہے اور ہر کوئی اپنی بساط اور شوق کے مطابق اس کے حق میں یا خلاف لکھ رہا ہے یا بول رہا ہے۔
صوبوں کے قیام کی یہ بازگشت پاکستانی فلموں کے اس تھیم سانگ سے مختلف نہیں، جسے پوری فلم میں بار بار چلا کر شائقین کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کیا جاتا تھا۔ جب کہ یہاں پاکستان کی تاریخ میں صوبوں کی بازگشت بھی کئی بار سنائی گئی ہے جس میں کبھی سسٹم کی تبدیلی، کبھی چہروں کی تبدیلی، کبھی ون یونٹ تو کبھی پارلیمانی تبدیلی، کبھی صدارتی تو کبھی ہائبرڈ نظام ، کبھی مقامی حکومتیں تو کبھی صوبوں کی تعداد میں اضافہ، یہ سب دراصل عوامی مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کا تھیم سانگ ہے، جسے سن کر عوام کو لگے کہ بس اب کوئی حقیقی تبدیلی آنے والی ہے جو ان کی زندگی بدل کر رکھ دے گی اور ان کے سارے دکھ سکھوں میں بدل جائیں گے۔ لیکن فلمی شائقین کے برعکس کہ جو فلم کے اختتام پر ہنسی خوشی گھروں کو لوٹتے تھے عوام جب ہوش میں آتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اب ایک نئے سراب کا سامنا ہے۔
ہمیں ملک میں نئے صوبے بنانے پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں، بلکہ ہم تو اس کے حق میں ہیں لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر صوبوں کے قیام کی وجہ کیا ہے؟ یقیناً یہی ناں کہ انتظامی یونٹس کو چھوٹا کیا جائے تاکہ ایک طرف وہاں کی انتظامیہ آسانی کے ساتھ کم وقت میں اپنے فرائض منصبی بخیرو خوبی سر انجام دے سکے اور دوسری طرف ہر انتظامی یونٹ کے عوام کو اپنے سیاسی نمائندوں اور انتظامی افسران تک رسائی آسانی سے ہو اور یوں ہمارا معاشرہ جنت نظیر بن جائے۔
یہ خواب دیکھنے کو تو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے مگر صرف کہنے، بولنے اور لکھنے کی حد تک، کیوں کہ صوبہ تو بہت بڑی بات ہے یہاں 2022 کی پنجاب حکومت کے بنائے گئے نئے ضلعے آج 2026 تک مکمل فعال نہیں کیے جاسکے۔
یہاں مسئلہ کسی ایک نئے صوبے کے قیام کا نہیں بلکہ یہاں تو درجنوں نئے صوبوں کے قیام کی نوید سنائی دی جارہی ہے۔ صرف پنجاب کو کوئی آٹھ تو کوئی بارہ اور کوئی بیس صوبوں میں تقسیم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف صوبہ سندھ کی حکومت کے بڑے تو صوبے کی تقسیم کے ہی خلاف ہیں اورپھر آئین پاکستان کی شق 239 کی ذیلی شق 4 کے مطابق کسی بھی صوبے کی علاقائی حد بندی میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے اس صوبے کی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی حمایت ضروری ہے۔ تو وہ کہاں سے آئے گی؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہ اپنا رعب و دبدبہ اور پروٹوکول کسی دوسرے کے ساتھ تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتا، بلکہ یہاں تو ہر کوئی سب کچھ اپنے ہاتھ میں کرلینے کے چکر میں ہے، کجا اس کے کہ وہ اپنے ہاتھ میں آئے اقتدار کا ہما کسی اور کے سر بیٹھنے کی تمنا کرے۔ یہ سب دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد جب یہ معاملہ آگے بڑھے گا تو صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے اپنے اپنے تحفظات بھی سامنے آئیں گے، جن کو حل کیے بغیر وہاں بھی نئے صوبوں کا قیام آسان نہیں ہوگا۔
ہمارے ہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر نئی سہولت کو انتظامی یا ٹیکنکل کے بجائے سیاسی مسئلہ بنا کر رکھ دیتے ہیں اور واضح چیلنج دے دیتے ہیں کہ جس نے بھی یہ کرنا ہے ہماری لاشوں سے گزر کر کرے گا۔ گویا یہ کوئی عوام کی سہولت والا کام نہیں بلکہ مولا جٹ فلم شروع ہوجاتی ہے۔
بہت سارے اگر مگر اور ایک دوسرے کی مخالفتوں کے دریا پار کرنے کے بعد ہم نئے صوبے بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہاں کے حکمران کون ہوں گے؟ وہاں کے انتظامی افسران اور وہاں کی پالیساں کون بنائے گا؟ ہم عوام بنائیں گے؟ بالکل بھی نہیں۔ ان صوبوں کے تخت پر آج یا گزشتہ یا گزشتہ سے پیوستہ حکمرانوں کی اولاد یا ان کے تائے، مامے، چاچے یا دیگر رشتے دار ہی براجمان ہوں گے۔ کیوں کہ آج کل کے سسٹم میں کیا کوئی عام آدمی الیکشن لڑنے کی سکت رکھتا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ تو پھر جب نئے صوبوں کے کرتا دھرتا بھی ان میں سے نہیں ہوں گے تو ان کے حالات کیسے بدلیں گے؟
البتہ ملک پر نئے حکمرانوں اور انتظامی افسران پر اٹھنے والے بے تحاشا اخراجات کا ایک بھاری بوجھ آن پڑے گا اور جو ملک پہلے ہی اپنے بجٹ کو پورا کرنے کےلیے آئی ایم ایف سے قرض لیتا ہو اور جسے وہ اپنی مرضی سے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں تک مقرر نہ کرنے دیتا ہو، وہ اسے نئے صوبوں والے لاڈ کیوں اٹھانے دے گا اور اگر وہ سارے اخراجات عوام پر ٹیکس لگا کر پورے کرنے کا کہے گا تو کیا ہوگا؟ کیا اس عوام میں مزید ایک تنکے کا بوجھ بھی اٹھانے کی طاقت باقی رہ گئی ہے؟ جو ایسا خیال بھی کرتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، کیوں کہ اب تو عوام میں احتجاج کرنے کی بھی سکت باقی نہیں رہی ہے۔
نئے صوبے بنائیں، نئے ضلعے اور تحصیلیں بھی بنائیں لیکن صرف اس صورت میں جب ایسا کرنا ممکن ہو اور عوام کو حقیقی معنوں میں ان نئے انتظامی یونٹس سے فائدہ بھی حاصل ہو۔ مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرسکتا ہے اگر وہ نظام سیاسی، انتظامی اور مالی لحاظ سے بااختیارہو لیکن یہاں مقامی حکومتوں کے نظام کا کیا حال ہوا ہے وہ بھی ہم سب جانتے ہیں۔ جب تک اقتداراور اختیار تقسیم نہیں کریں گے اور نیک نام، ایمانداراور قابل افراد اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے، کچھ بھی نہیں ہوگا، چاہے صوبے بنائیں یا ضلعے اور تحصیلیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔