پنجاب میں 30 ہزار ایکڑ پر شریمپ فارمنگ کا منصوبہ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز

منصوبے کے تحت پاکستان کی پہلی شریمپ ڈائیگناسٹک لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی


ویب ڈیسک August 12, 2026

لاہور:

 پنجاب حکومت نے صوبے میں شریمپ فارمنگ کے فروغ کے لیے مجموعی طور پر30 ہزار ایکڑ اراضی پر منصوبہ تیار کرنے کی اصولی منظوری دے دی، جبکہ مظفرگڑھ اور سرگودھا میں شریمپ فارمنگ کے پائلٹ منصوبوں کے بعد جدید مشینری اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں شریمپ ایکوا کلچر منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں تقریباً 5 ہزار 500 ایکڑ اراضی پر ایک ہزار شریمپ فارمز تیار کیے جاچکے ہیں، جہاں شریمپ کی اسٹاکنگ اور پیداوار شروع ہوگئی ہے۔

بریفنگ کے مطابق غیر ملکی ماہرین کی معاونت سے شریمپ فارمنگ کے لیے سروے مکمل کرکے تقریباً 40 ہزار ممکنہ سائٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مظفرگڑھ کے علاقے شاہ گڑھ، علی والا میں 5 ہزار 300 ایکڑ پر 737 تالاب قائم کیے جائیں گے، جبکہ یہاں سالانہ 280 ملین کی پیداواری صلاحیت رکھنے والی ہیچری بھی قائم کی جائے گی۔

علی والا کے شریمپ فارمز میں فی گھنٹہ 10 ٹن اور 5 ٹن پیداواری صلاحیت کے دو پروسیسنگ پلانٹس قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت پاکستان کی پہلی شریمپ ڈائیگناسٹک لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی، جہاں کیمسٹری، پیتھالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شاہ گڑھ میں پاکستان کا پہلا ایکوا کلچر مال قائم کیا جائے گا، جہاں شریمپ فارمرز کو سیڈ، فیڈ اور کرائے پر جدید مشینری سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ تربیتی ہال بھی قائم کیا جائے گا۔

سرگودھا کے نواحی گاؤں 58 این بی میں 500 ایکڑ اراضی پر 167 تالابوں میں شریمپ فارمنگ کی جائے گی۔ منصوبے کی سالانہ پیداواری صلاحیت 10 ملین پی ایل بتائی گئی ہے، جبکہ یہاں ہیچری، ایکوا کلچر مال اور پروسیسنگ پلانٹ بھی قائم کیے جائیں گے۔ شریمپ فارمنگ کے لیے ہائبرڈ سولر انرجی سسٹم لگانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق مظفرگڑھ کے شاہ گڑھ میں ہارویسٹر اور آٹو فیڈر سمیت جدید مشینری کا کامیاب تجربہ کیا گیا، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فارمنگ کی مانیٹرنگ کے دوران 100 فیصد نتائج حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ منصوبے کے تحت 100 افراد کو جدید طریقہ کار کے مطابق تربیت بھی دی جاچکی ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے میں یونیورسٹی گریجویٹس اور مقامی فارمرز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ شریمپ کی برآمدات بڑھانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مظفرگڑھ میں کیے گئے تجربات کی بنیاد پر سرگودھا میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شریمپ فارمنگ شروع کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی اور منصوبے میں مرحلہ وار نجی شعبے کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی بنجر زمین کو شریمپ ایکسپورٹ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ ویلیو چین قائم ہونے کے بعد پنجاب شریمپ کی برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرے گا، جبکہ مقامی فوڈ انڈسٹری میں شریمپ کی دستیابی سے درآمدات پر خرچ ہونے والا زرمبادلہ بھی بچایا جا سکے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں ایکوا کلچر اتھارٹی کا قیام بھی فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے، جبکہ چین، ناروے، انڈونیشیا، ویت نام، ڈنمارک، بھارت اور ایکواڈور سمیت مختلف ممالک میں استعمال ہونے والی جدید ایکوا کلچر ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بہاولپور سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 30 ہزار ایکڑ اراضی پر شریمپ فارمنگ کا منصوبہ تیار کرنے کی اصولی منظوری دی۔ اجلاس میں کاہنہ فش مارکیٹ کے منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔