ایران کیساتھ جنگ سے پریشان امریکی فوجیوں کی کھلے سمندر میں خودکشی کی کوششیں

ابراہم لنکن نومبر 2025 میں امریکا سے روانہ ہوا تھا جس میں موجود 5 ہزار اہلکار ذہنی دباؤ کا شکار ہیں


ویب ڈیسک August 13, 2026
ایران جنگ سے پریشان امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان

ایران سے جنگ کے دوران امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کی طویل تعیناتی نے ذہنی دباؤ اور بے چینی میں تشویشناک حد تک اضافہ کردیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس جہاز کے متعدد اہلکاروں نے سمندر میں کودنے کی کوشش کی، جبکہ اہل خانہ اور قانون سازوں نے عملے کی ذہنی صحت اور جہاز پر بنیادی سہولیات کی صورتحال پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ابراہم لنکن نومبر 2025 میں امریکا سے روانہ ہوا تھا اور بعد ازاں اسے مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے بھیج دیا گیا۔

امریکی فوجی امور کے ذرائع کے مطابق جہاز نے مسلسل 200 سے زائد دن سمندر میں گزار کر طویل ترین مسلسل تعیناتی کا ریکارڈ قائم کیا جبکہ اگست تک اس کی تعیناتی 250 دن سے تجاوز کرچکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس دوران عملے کو معمول کے مطابق بندرگاہ پر طویل قیام یا گھر واپسی کا موقع نہیں ملا۔ طویل تعیناتی نے اہلکاروں میں تھکن، ذہنی دباؤ اور حوصلے میں کمی کے خدشات پیدا کیے ہیں۔

امریکی میڈیا میں اہلکاروں کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کم از کم دو اہلکاروں نے مبینہ طور پر جہاز سے سمندر میں کودنے کی کوشش کی۔

ایک اہلکار کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نے طویل عرصے تک مسلسل ڈیوٹی اور شدید ذہنی دباؤ کے بعد جہاز سے کودنے کی کوشش کی۔ واقعے کے بعد انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا۔

ایک دوسرے واقعے میں ایک اہلکار نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی کو جہاز سے نیچے جانے سے روکنے کے لیے مداخلت کی۔ تاہم امریکی بحریہ نے ان واقعات کی تعداد یا ان کے محرکات کے بارے میں تفصیلی معلومات جاری نہیں کیں۔ 

امریکی فوجی اہلکاروں کے خاندانوں اور بعض رپورٹس میں جہاز پر خوراک، پینے کے پانی، صفائی، بنیادی اشیا اور ڈاک کی فراہمی سے متعلق مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

کچھ خاندانوں نے شکایت کی کہ طویل تعیناتی کے باعث تازہ خوراک اور روزمرہ استعمال کی بعض اشیا کی دستیابی متاثر ہوئی جبکہ جہاز کے بعض حصوں میں پانی اور صفائی کے مسائل بھی سامنے آئے۔

امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل سمیت بعض قانون سازوں نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ دفاع سے وضاحت اور صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم امریکی بحریہ نے جہاز پر خودکشی کے خیالات یا ذہنی صحت کے مسائل میں مجموعی اضافے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی 13 اگست کو میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابراہم لنکن پر حالات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کے بقول مشکل حالات کے باوجود بحریہ اپنے اہلکاروں کو ضروری مدد فراہم کررہی ہے۔

یہ اختلاف اس معاملے کو مزید اہم بناتا ہے کہ ایک طرف اہلکاروں کے خاندان سنگین مشکلات کی شکایات کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف فوجی حکام کسی بڑے ذہنی صحت کے بحران کی تردید کررہے ہیں۔

دریں اثنا امریکی حکام کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ کی جانب بھیجا جارہا ہے تاکہ ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھی تاہم موجودہ صورتحال میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ 

امریکی بحریہ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ ایران جنگ کے دوران مسلسل فوجی کارروائیوں کے ساتھ اپنے اہلکاروں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔

ایران جنگ کے میدان میں میزائلوں، فضائی حملوں اور بحری کارروائیوں کے علاوہ امریکی فوجیوں پر مسلسل تعیناتی اور جنگی تھکن کا دباؤ بھی نمایاں ہونے لگا ہے۔