کراچی:
نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں پارٹنر کی جانب سے ضمانت کی درخواست کی سماعت میں عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا۔
سٹی کورٹ میں نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے کی عبوی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں وکیل نے دلائل دیے کہ میرے موکل کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ ہمیں تھانے بلانے کے بجائے کرائم سین پر بلایا گیا ۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے ہراساں کیا ؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ سابقہ تفتیشی افسر کی جانب سے ہراساں کیا گیا ہے۔
اس موقع پر مقتول کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ کسی کو ہراساں نہیں کیا گیا، بلکہ پولیس نے تفتیش کے لیے بلایا ہے۔ 35 گواہان اور افراد کو بلایا گیا، ان سے تفتیش میں گھنٹوں لگے ہیں۔ میرے مؤکل کو قتل کیا گیا ہے، آج انہیں ضمانت دی گئی تو اس کیس سے جڑے باقی لوگ بھی ضمانت لیں گے۔
دریں اثنا مقتول کے بزنس پارٹنر درخواست گزار کے وکیل خالد ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ میر رضا (مقتول) سے تجارتی معاملات تھے۔ پولیس کی جانب سے اسے بھی شامل تفتیش کیا جارہا ہے۔ میرا موکل محمد احمد مقتول کا بزنس پارٹنر تھا۔ ایک دکان احمد چلاتا تھا اور دوسری میر رضا ۔ پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے ۔ تعاون کررہے لیکن خدشہ ہے گرفتار نہ کرلیا جائے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے آج کی سماعت میں عبوری ضمانت کے درخواست گزار محمد احمد کو بھی آج عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل سے عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس میں ملزم تو نہیں تھے، پھر ضمانت کیوں لی؟۔ آپ سوچ لیں، اس ضمانت کو چلانا چاہتے ہیں یا واپس لیں گے؟۔
عدالت نے کہا کہ احمد اگر آپ ضمانت پر ہوں یا نہ ہوں، آپ پابند ہیں کہ تفتیش جوائن کریں گے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ جب بھی پولی بلاتی ہے ، میں تھانے جاتا ہوں۔
عدالت نے حکم دیا کہ جب تک تفتیش جاری ہے، آپ شہر سے باہر نہیں جاسکتے ۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی ۔ عدالت نے ملزم کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں کہ ضمانت واپس لیں گے یا چلائیں گے۔
یاد رہے کہ محمد احمد نے عبوری ضمانت کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کسی کے گھر پر اس طرح سے آئے گی تو پھر ایسا ہوسکتا ہے۔ ہم نے سب لوگوں کی معلومات پولیس کو فراہم کی ہیں کہ وہ کس کس سے ملا تھا۔ پولیس اب ان تمام لوگوں سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔
وکیل کے مطابق ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اس وقت جو نئے ڈی ایس پی تفتیشی افسر لگائے گئے ہیں انہوں نے ابھی کام شروع کیا ہے۔ ہم کسی کو نہیں کہہ رہے کہ کسی کو گرفتار کریں یا نہ کریں۔ والد نے خود یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قاتل کو کیوں بچایا جارہا ہے؟ پورا شہر یہ سوال کررہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ نئی ٹیم اس کیس میں شفاف تحقیقات کرے گی۔ ان سب لوگوں کا شکریہ، جو اس معاملے میں دن رات احتجاج کررہے ہیں۔ کراچی کے نوجوانوں نے اس معاملے میں اپنی آواز کو بلند کیا ہے۔