حکومت کا تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے جامع ڈیولپمنٹ پیکیج لانے پر غور

 تعمیراتی شعبے کے لیے درآمدی و برآمدی پالیسیوں کی معقول سازی اور ٹیکس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا


ویب ڈیسک August 15, 2026

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرصدارت قومی تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا، حکومت تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے جامع ڈیولپمنٹ پیکیج پرغور کر رہی ہے۔

اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ، سیکرٹری ہاؤسنگ، ایم ڈی پیپرا، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک تھے۔

کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کا قیام اور الگ بینک بنانے کی تجویز زیرِغور آئی جب کہ تعمیراتی شعبے کے لیے درآمدی و برآمدی پالیسیوں کی معقول سازی اور ٹیکس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا۔

احد چیمہ نے کہا کہ مجوزہ بورڈ (سی آئی ڈی بی) بورڈ شعبے کی ترقی اور ریگولیٹری نگرانی کا دوہرا کردار ادا کرے گا، سرکاری و نجی نمائندوں پر مشتمل بورڈ تعمیراتی معیار کو بین الاقوامی سطح پر لائے گا، سی آئی ڈی بی کے قیام پر حکومت اور کیپ ٓکے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

احد چیمہ نے کہا کہ بورڈ کے قیام کا فریم ورک باضابطہ منظوری کے لیے جلد وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا، ترقیاتی پیکیج سے مالیاتی اور پالیسی رکاوٹیں دور ہوں گی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا، سرکاری منصوبوں کے ڈیفکٹ لائبلٹی پریڈ (ڈی ایل پی) جلد ایک سال سے بڑھا کر 3 سال کرنے جارہے ہیں۔

احد چیمہ نے کہا کہ مستقبل میں ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ کو 5 سال تک بڑھانے کا واضح روڈ میپ موجود ہے، انفراسٹرکچر مکمل ہوتے ہی خراب نہیں ہونا چاہیے، ٹھیکیداروں کو اعلیٰ معیار برقرار رکھنا ہوگا، ٹھیکیداروں کے برعکس کنسلٹنٹس کے لیے فی الوقت سزاؤں یا جرمانوں کا کوئی قانون موجود نہیں، سی آئی ڈی بی کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہ راست نگرانی اور احتساب کے دائرے میں لایا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیزائن کی خامیوں اور تکنیکی غلطیوں پر کنسلٹنٹس کو قانونی و مالی طور پر جوابدہ بنایا جائے گا، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کی کنسلٹنٹس کے ریگولیٹری احتساب کی مکمل حمایت کی ہے،  کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ بینک کا فیصلہ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی مالیاتی فیزیبلٹی پر ہوگا۔

احد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی بنیادی توجہ ہر عوامی منصوبے کو سستا اور پائیدار بنانے پر ہے، عوامی فنڈز قومی امانت ہیں، ناقص کارکردگی یا غلط ڈیزائن سے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔