وفاقی حکومت کو مقامی اور غیرملکی اداروں سے فنڈز نہ ملنے کے باعث نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان تاخیر کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے، فنڈز کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی، گھروں اور انفراسٹرکچر کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لئے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔
اس حوالے سے دستیاب دستاویز کے مطابق چوتھے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور جائیکا سمیت غیرملکی ڈونرز سے مطلوبہ معاونت نہیں مل سکی ہے جبکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پلان کو اپ گریڈ کرکے چوتھا فلڈ پروٹیکشن پلان تیار کیا گیا اور سی ڈی ڈبلیو پی نے ستمبر 2022 میں منصوبے کو اپ ڈیٹ کرنے کی منظوری دی تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر فلیش فلڈز اور پہاڑی ندی نالوں کے خطرات بھی پلان میں شامل کیےگئے ہیں منصوبے کے تحت ایک کروڑ 57 لاکھ 61 ہزار افراد، 80 لاکھ 50 ہزار ایکڑ زرعی اراضی اور 22 لاکھ گھروں کو ممکنہ سیلابی نقصانات سے محفوظ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہ۔
پلان میں 331 کلومیٹر پختہ سڑکوں، 64 دیہات، 223 ٹیوب ویلوں اور زرعی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل ہیں جبکہ 3 ہزار 825 کاشت کار خاندان براہ راست مستفید ہوں گے۔
دستاویز کے مطابق منصوبے میں 20 فیصد ایکویٹی وفاق اور 10 فیصد صوبائی حکومتیں فراہم کریں گی جبکہ مجموعی مالی ضروریات کا 80 فیصد ڈونر فنانسنگ سے پورا کیا جائے گا۔
منصوبے کے لیے مطلوبہ غیرملکی فنڈنگ کا حجم 155 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، مالی مشکلات کے باعث منصوبے کی لاگت کم کرنے اور ترجیحی منصوبوں پر توجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے، فنانسنگ کے لیے اکنامک افیئرز ڈویژن کو فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ 2010 کے پہلے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان کی مجموعی لاگت 332 ارب 24 کروڑ روپے تھی۔