اسلام آباد:
بانی پی ٹی آئی سے بہنوں سمیت دیگر کی ملاقات اور ذاتی معالجین تک رسائی کے کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد کے الشفاء اسپتال منتقل کرنے جبکہ عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا اور پارلیمانی سیکرٹری شاہد خٹک نے اسپتال کے باہر سیاسی سرگرمی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ اسپتال میں علاج کا خرچ کون اٹھائے گا؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ اسپتال میں علاج کا خرچ ہم خود اٹھائیں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اسپتال کے باہر کسی قسم کی سیاسی سرگرمی نہ کی جائے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اسپتال میں اور بھی مریض ہوتے ہیں، اسپتال کے دیگر مریض متاثر نہیں ہونے چاہیں، اسپتال کے باہر میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنسز نہ کی جائیں، اسپتال کے باہر سیاست نہ کریں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری سیاسی مکمل طور پر الگ رہے گی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ہدایت کی کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کو مکمل خفیہ رکھا جائے، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم یقین دہانی کرواتے ہیں میڈیکل رپورٹ مکمل خفیہ رہے گی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی مخالفت
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے آرڈر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور بانی کو فوری طور پر اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ بانی کی صحت کے پیش نظر میڈیکل سہولت بنیادی حق ہے۔ کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ کا حکم نامہ
کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی الشفاء انٹرنیشنل اسپتال میں رکھا جائے، ذاتی معالج فیصل سلطان کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے جبکہ میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جائے جس میں ماہر آنکھ، جنرل میڈیشن اور فیصل سلطان شامل ہوں، میڈیکل سپریم کورٹ میں جمع ہوگی۔ ڈاکٹر غطمیٰ کو بھی رسائی دی گئی۔
حکم نامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے علاج کے اخراجات فیملی اٹھائے جبکہ اہل خانہ سمیت وکلاء بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ میڈیا سے شیئر نہ کرے۔ حکومت بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کروانے کا انتظام کرے جبکہ بانی کی بچوں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا انتظام بھی کیا جائے۔
عدالتی حکم نامے میں لکھا ہے کہ اسپتال کے کسی قسم کا اجتماع نہیں ہوگا، بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، احکامات کی خلاف ورزی پر یہ آرڈر واپس لے لیا جائے گا اور حکومت نے محسوس کیا کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے جبکہ بانی سے متعلق کے احکامات پر عمل نہ ہونے پر وہ بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
سماعت کا احوال
قبل ازیں، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل عزیر بھنڈاری نے استدعا کی کہ بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور عظمیٰ خان سے ملاقات کروائی جائے، انہوں نے یقین دہانی بھی کروائی کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہیں کریں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی کے جیل میں اعضاء متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں، رپورٹس کے مطابق دل کا بھی مسئلہ ہے اور ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی کی بیماری پر سیاست نہ کریں بلکہ بانی کی بہتری کی بات کریں۔
کیس کی سماعت میں مختصر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔
عمران خان کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا، بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔
اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو آپ بھی کریں گے؟ جسٹس شاہد وحید کا ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں ان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ بہنوں کی تین سال میں 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، تین سال میں ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا جبکہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔
وکیل عذیر بھنڈاری کی جانب سے بہنوں کی ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی پر جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ ایک بات طے کر لیں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی۔
دوران سماعت عظمیٰ خان کو بات کرنے سے روک دیا گیا
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران عظمیٰ خان کو بات کرنے سے روک دیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں بات نہ کریں۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے کہ بانی کا بلڈ کلاڈ کیوں ہوا اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی مکمل تفصیل دیں، بانی کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، تفصیل دیں، بانی کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں؟ کتنے کیسز میں سزا معطل ہو چکی، تفصیل دیں۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1979 میں جو کچھ ہوا نہیں چاہتے دوبارہ ہو۔
جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا ممانعت ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کا مکمل ریکارڈ دیں، سمری نہیں چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا انجیو گرافی کروانی ہے، کیا جیل میں انجیو گرافی ہو سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ باہر اسپتال سے ہو سکتی ہے۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل، جسٹس شاہد وحید کے ریمارکس
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کی نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل، میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں، بہنوں سے ملاقاتیں کروانے میں کیا مسئلہ ہے، بانی سے ملاقاتیں نہ کروانا مہربانی نہیں بلکہ انکا بنیادی حق ہے، یہ نہیں ہوسکتا ریاست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرے۔
عدالت نے بانی کی بیٹوں کے ساتھ ملاقات کی تفصیل اور سی ڈی آر طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو 3 سال کی ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ کسی درخواست گزار نے بانی کا چیک اَپ کرنے والے ڈاکٹرز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یقین دہانی کراتے ہیں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل کی صورت میں زیر التوا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ ہمیں ابھی تک نوٹس نہیں ہوا، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ ہمارے سامنے کھڑے ہوکر بات کیوں کر رہے ہیں۔
سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچنے والے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہمیں عدالتوں سے امید ہے اور بانی کو عدالتوں کے ذریعے ہی رہا کروائیں گے۔