سینیٹ اجلاس، جے یو آئی نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکسز کے نفاذ کی مخالفت کردی

فاٹا اور پاٹا کو 100 ارب کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا مگر یہ پورا نہیں ہوا، ٹیکس لگا کر مزید مشکلات نہ بڑھائی جائیں، سینیٹر واسع


ویب ڈیسک August 18, 2026
فوٹو فائل

جمعیت علما اسلام نے ضم شدہ اضلاع فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات نہ بڑھائی جائیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس کے آغاز پر فاٹا اضلاع میں ٹیکسوں کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی جس میں مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے لوگوں کی مشکلات نہ بڑھائی جائیں۔

حکومتی اراکین کہتے ہیں ٹیکس استثنی کی چھوٹ کا غلط استعمال کیا گیا۔ 

اجلاس کے آغاز پر سوالات وجوابات کے کتابچے نہ چھپنے کی وجہ سے وقفہ سوالات کو مؤخر کیا گیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یوآئی کے سینیٹر مولاناعطاء الرحمان نے وفاقی بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکسوں سے استثنی واپس لینے کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اضلاع کے لیے سو ارب روپے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوا اور نہ ہی فنڈز دیے گئے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے میں جو کمیٹی تھی اس میں فاٹا پاٹا کے لوگ بھی شامل تھے، خیبرپختونخواہ چیمبرآف کامرس بھی مشاورت میں شامل تھا،اس معاملے میں دیگر چیمبرز نے سختی سے مخالفت کی تھی۔

سینٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں جہاں پہلے ٹیکس نہیں وہاں بھی لگایا گیا ہے، عوام کو جو انگریز دور میں مراعات حاصل تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ 

وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے، وہاں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں، بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ روزانہ ہماری سڑکیں بند ہوتی ہیں معیشت تباہ ہو چکی،10 روز سے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال رہی ہے ،ایران کی سڑکیں کھلی ہیں مگر ہماری بند کی جاتی ہیں۔

ایوان نے معیار وقت آرڈیننس 1943میں مزید ترمیم کا بل 2026، اور سول سرونٹس ایکٹ 1973میں ترمیم کا بل منظورکرلیا جبکہ پی ٹی آئی نے بل کی مخالفت نہیں کی۔

دوسرے بل میں تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ تیسرابل قومی ادارہ برائے لوک وروایتی ورثہ (لوک ورثہ )آرڈیننس 2002 میں مزید ترمیم کا بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا تاہم سینیٹرسرمدعلی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کرنے پر ایوان کی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔